گلہری …… ایک ننھی سی مخلوق اور بڑے بڑے فلسفے

ازقلم: ناصرعلی شیخ
معاون اسپیشل آفیسر بال بھارتی اردو
اگر دنیا میں مصروف ترین مخلوقات کی فہرست بنائی جائے تو انسان کے بعد جس کا نمبر آنا چاہیے، وہ یقیناً گلہری ہے۔ یہ ننھی سی، پھرتیلی سی، دم ہلاتی ہوئی مخلوق ایسے دوڑتی ہے جیسے اس کے پاس بینک کے سارے قرضے ادا کرنے ہوں اور وقت بہت کم ہو۔ آپ نے کبھی کسی گلہری کو فارغ بیٹھے دیکھا ہے؟ نہیں نا! کیونکہ فارغ بیٹھنا تو شاید اس کی لغت میں ہی نہیں۔
گلہری کا سب سے نمایاں وصف اس کی “دوڑ دھوپ” ہے۔ وہ درخت سے اترتی ہے، زمین پر آتی ہے، پھر کسی کو دیکھ کر ایسے بھاگتی ہے جیسے ہم اسکول کے زمانے میں استاد کو دیکھ کر بھاگا کرتے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم کبھی کبھار پکڑے بھی جاتے تھے، مگر گلہری بڑی چالاک ہے، فوراً کسی شاخ پر چڑھ جاتی ہے اور ہمیں نیچے کھڑا دیکھ کر جیسے مسکرا رہی ہو کہ “لو جی، پکڑ سکتے ہو تو پکڑ لو!”
گلہری کا کھانے کا انداز بھی بڑا دلچسپ ہے۔ وہ دانہ اٹھاتی ہے، دونوں ہاتھوں میں پکڑتی ہے اور ایسے چباتی ہے جیسے کوئی بہت بڑا راز حل کر رہی ہو۔ بعض اوقات تو یوں لگتا ہے کہ وہ صرف کھا نہیں رہی بلکہ حساب کتاب بھی کر رہی ہے کہ “آج کتنے دانے کھائے، کل کتنے جمع کیے، اور سردیوں کے لیے کتنے بچانے ہیں۔” اس معاملے میں وہ ہم انسانوں سے کہیں زیادہ دور اندیش ہے، کیونکہ ہم تو اکثر مہینے کے آخر میں جیب خالی کر کے بیٹھے ہوتے ہیں۔
اب اگر گلہری کی دم کا ذکر نہ کیا جائے تو بات ادھوری رہ جائے گی۔ اس کی لمبی، گھنی دم ایسے لہراتی ہے جیسے کسی فلم کا ہیرو سلو موشن میں داخل ہو رہا ہو۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ گلہری اپنی دم کو صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ توازن برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ مگر حقیقت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ دم کو صرف اسٹائل مارنے کے لیے ہلاتی ہو — آخر فیشن کا زمانہ ہے!
دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم انسان اکثر گلہری کو معمولی سمجھتے ہیں، مگر اس کی زندگی کا نظم و ضبط دیکھیں تو شرمندگی ہوتی ہے۔ وہ نہ وقت ضائع کرتی ہے، نہ شکایت کرتی ہے، نہ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر دوسروں کی زندگیوں کا تجزیہ کرتی ہے۔ بس اپنا کام کرتی ہے اور خوش رہتی ہے۔ جبکہ ہم انسان… کام کم اور فکر زیادہ کرتے ہیں۔
مزاح کی بات یہ ہے کہ اگر گلہری کو کبھی انسانوں کی طرح سوچنے کا موقع مل جائے تو شاید وہ بھی کہے:
“یہ انسان بھی عجیب مخلوق ہے، سارا دن بھاگتا ہے، مگر آخر میں کہتا ہے وقت نہیں ملا!”
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ گلہری ایک چھوٹی سی مخلوق ہونے کے باوجود ہمیں بڑی بڑی باتیں سکھاتی ہے — محنت، چستی، اور مستقبل کی فکر۔ مگر ہم ہیں کہ سبق لینے کے بجائے صرف اسے دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں اور اگلے ہی لمحے اپنی مستی میں واپس آ جاتے ہیں۔
تو اگلی بار جب آپ کسی درخت پر دوڑتی ہوئی گلہری دیکھیں، تو ذرا رک کر سوچیں —
“کہیں یہ ہمیں آئینہ تو نہیں دکھا رہی ہے…




