مضامین

پنڈت جواہر لال نہرو کا خواب: یوم اطفال اور ہمارے روشن مستقبل کا عہد

shaikh mateen buldhana(شیخ متین شیخ نظیر ، ریسرچ اسکالر سنت گاڑگے بابا امراوتی یونیورسٹی)
چودہ نومبر کا دن ہندوستان میں بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا دن ہے۔ یہ وہ خاص دن ہے جب پورا ملک اپنے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی یوم پیدائش کو ‘یوم اطفال’ کے طور پر مناتا ہے۔ اس دن کو اس خاص مقصد کے لیے منتخب کرنے کی وجہ نہرو کا بچوں سے غیر معمولی لگاؤ تھا۔ وہ نہ صرف ایک عظیم رہنما تھے بلکہ بچوں کے لیے ایک شفیق ‘چاچا’ بھی تھے۔

“نہرو جی کا بچپن اور تعلیم
جواہر لال نہرو ۱۴ نومبر ۱۸۸۹ کو الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ کشمیری پنڈت خاندان سے تھا۔ ان کے والد موتی لال نہرو ایک ممتاز وکیل تھے جو بعد میں کانگریس کے صدر بھی بنے۔ انہوں نے جواہر لال کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا۔ نہرو نے ابتدائی تعلیم ہوم اسکول سے حاصل کی اور پندرہ سال کی عمر میں انگلینڈ کے ہارو اسکول میں داخلہ لیا۔ بعد میں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کے ٹرینیٹی کالج سے طبیعیات اور کیمیا میں ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے لندن ہی کے Inner Temple سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور ۱۹۱۲ میں بیرسٹر بن کر ہندوستان واپس آئے۔
ہندوستان واپسی کے بعد نہرو نے سیاست میں فعال کردار ادا کیا۔ وہ مہاتما گاندھی کے نظریات سے بہت متاثر ہوئے اور تحریک آزادی میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے کئی مرتبہ جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ انہوں نے ‘سوشلسٹ’ نظریات کو اپنایا اور جدید ہندوستان کی تعمیر کے لیے کام کیا۔ آزادی کے بعد وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم بنے اور اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔

بچوں سے محبت کی داستانیں
نہرو کی شخصیت کا سب سے پیارا پہلو ان کا بچوں سے لگاؤ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ بچے قوم کا روشن مستقبل ہیں۔ ان کی جیب میں بچوں کے لیے مٹھائی ہمیشہ موجود رہتی تھی۔ ان کی سفید شیروانی پر بچوں کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کے نشان ان کی محبت کی کہانی سناتے تھے۔ ایک بار ایک چھوٹی بچی نے انہیں ‘چاچا نہرو’ کہہ کر پکارا۔ یہ نام اتنا مقبول ہوا کہ آج بھی وہ اسی نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔
وہ بچوں کے ساتھ کھیلنے، ان سے باتیں کرنے اور ان کی باتوں کو غور سے سننے کا وقت ہمیشہ نکال لیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ بچوں کی نفسیات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندوستان کے بچے تعلیم یافتہ، صحت مند اور خوشحال ہوں۔

یوم اطفال کا آغاز اور مقصد
پنڈت نہرو کے انتقال کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کی یوم پیدائش کو قومی یوم اطفال کے طور پر منایا جائے گا۔ اس کا مقصد نہ صرف انہیں خراج تحسین پیش کرنا تھا، بلکہ ان کے اس پیغام کو آگے بڑھانا تھا کہ ملک کی ترقی کا راز بچوں کی بہتر پرورش میں ہے۔
اس دن کو منانے کا ایک مقصد عوام میں بچوں کے حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر بچے کو تعلیم، صحت اور تحفظ کا حق حاصل ہے۔
آج پورے ہندوستان میں یوم اطفال کا تہوار بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ بچوں کے لیے مختلف قسم کے پروگرامز، مقابلے اور کھیلوں کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ بچوں کو مٹھائی اور تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں۔
اس موقع پر بچوں کے حقوق کے بارے میں آگاہی مہم چلائی جاتی ہے۔ سماجی تنظیمیں محروم بچوں کے لیے خصوصی پروگرامز کا اہتمام کرتی ہیں۔ میڈیا پر بچوں سے متعلق اہم موضوعات پر پروگرامز پیش کیے جاتے ہیں۔

نہرو جی کے خوابوں کا ہندوستان
نہرو جی نے جدید ہندوستان کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندوستان کا ہر بچہ تعلیم یافتہ ہو اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
انہوں نے آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم جیسے معیاری تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی۔ ان کا ماننا تھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
آج کے دور میں یوم اطفال کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ معاشرے میں بچوں کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ بچوں کے خلاف جرائم، کام کرنے والے بچے، اور تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں یوم اطفال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان مسائل کے حل کے لیے کام کریں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ہر بچے کو تعلیم کے مواقع فراہم کریں۔ بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ہر بچے کو صحت کی سہولیات میسر کرائیں۔
پنڈت جواہر لال نہرو کا یہ قول آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے: “بچے باغ کے پھول کی مانند ہیں اور انہیں محبت اور دیکھ بھال سے پروان چڑھانا چاہیے۔”
یوم اطفال محض ایک تہوار نہیں، بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ عہد ہے کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہم چاچا نہرو کے خوابوں کو سچا کرنے کے لیے کام کریں گے۔
آئیے، اس یوم اطفال پر ہم سب یہ عہد کریں کہ ہر بچے کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔ ہم اپنے بچوں کو ایسی تعلیم اور تربیت دیں گے کہ وہ ملک کا نام روشن کر سکیں۔ یہی چاچا نہرو کو سب سے بڑی خراج تحسین ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!