مضامین

عمرخان۔ بیریا : دلدار شخصیت

مضمون نگار
م۔ ایوب احمد عبد ا لطیف نلامندو
ایڈیٹر: قاصد، سولاپور
سماجی، سیاسی، ادبی، معاشی میدان میں اپنا لوہا منوانے والی دلدار شخصیت ایڈوکیٹ۔ عمر خان نی خان عرف یو این۔ بیریا صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ہر میدان میں کیے گئے نمایاں کاموں کو نہ صرف شہر سولاپور بلکہ پورے مہاراشٹر اور ہندوستان کے کونے کونے میں جانا جاتا ہے، کیونکہ اردو ادبی کانفرنس کے ذریعے کیے گئے شاندار اور یادگار ادبی کاموں کو کون بھول سکتا ہے؟ تین روزہ اردو ادبی کانفرنس ہو یا ڈرامہ مقابلہ یا سولاپور میں پہلی بار ہونے والا بچوں کا ریاستی اردو ڈرامہ مقابلہ ہو!
سولاپور کی سرزمین پر کیے گئے یہ کارنامے ایسے ہیں جنہیں کوئی ادیب، کوئی شاعر، کوئی ڈرامہ نگار، یا عام آدمی کبھی نہیں بھول سکتا۔ اور بھولے گا بھی کیسے اور کیوں؟ سولاپور میں ہوئے اردو کے یہ پروگرام پورے ہندوستان میں دھوم مچائے اور ایک تاریخ بن گئے! ایسی تاریخ ساز شخصیت کے مالک ہیں جناب عمر خان نبی خان بیریا! جنہیں ادبی، سیاسی، اور سماجی شخصیت “یو این۔ بیریا” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
جب میں بیریا صاحب کا مختصر تعارف پڑھ رہا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ شاید یہ مراٹھی کی کہاوت “مورتی لهان ۔ کیرتی مهان” بیریا صاحب کے لیے ہی لکھی گئی ہے۔ کیونکہ سیاست میں نگر سبوک سے لے کر میئر تک کا طویل سیاسی سفر طے کرنے کے بعد ان میں کبھی بھی فخر، تکبر یا غرور نہیں آیا۔ بیریا صاحب کو “سیاست کے بے داغ سپاہی” کہنا غلط نہیں ہوگا۔ یہ بات میرے والد محترم مرحوم عبد اللطیف صاحب نے اپنے ذاتی تجربے کے طور پر مجھے کہی تھی، اور کہا تھا کہ اگر سیاست میں بیریا جیسے لوگ آ جائیں تو مسلم قیادت میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوتا!
بیریا صاحب، اگرچہ وہ شہر کے سیاسی رہ نما ۔ سابق میر مہاپور رہ چکے ہیں، لیکن پھر بھی میونسپل کارپوریشن کے مزدوروں کے حقوق کے لیے بڑے افسران سے لڑتے ہیں اور انہیں انصاف دلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، ـ جبکہ یہ بہت کم ہوتا ہے۔ کیونکہ میں صحافت سے وابستہ ہوں اور میرے ذاتی تجربے کے مطابق کئی شہروں میں میر اور افسران کی “ملی بھگت ” ہوتی ہے۔ میں ان کے ساتھ سولاپور کے “اردو گھر” کی تعمیر میں ہوئی تاخیر کے حوالے سے احتجاج میں بھی بیٹھا ہوں اور کئی بار احتجاج کے لیے ان کے ساتھ جانے کا موقع ملا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی “خود نمائی” یا اپنے آپ کو فوکس نہیں کیا۔ اس بات کی گواہی کے لیے آپ اخبار میں چھپے نیوز کو دیکھ سکتے ہیں جس میں بیریا صاحب نے سب کو آگے بڑھایا اور تمام ساتھیوں کا دل جیت کر “دلدار شخصیت” بن گئے!
ایڈ۔ بیریا صاحب ایک سمجھدار سیاستدان ہیں تو دوسری طرف قوم و ملت کے درد رکھنے والے نیک انسان بھی ہیں۔ سیاست کے پیچ و خم میں گم ہو کر نہیں رہتے بلکہ ایک “ادب نواز شخصیت” بن کر ابھرتے ہیں اور اردو ادب کے تمام اصناف کا جائزہ لیتے ہیں، اپنے ادرے کے ممبرز سے مشورہ کرتے ہیں اور اتفاق رائے سے کیے گئے فیصلوں کے مطابق ان اردو پروگراموں کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں، وہ سستی شہرت سے دور رہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، بس ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ کام کرتے رہنا چاہیے۔
بیریا صاحب ایک اچھے ادب نواز کے ساتھ ساتھ ایک اچھے میزبان بھی ہیں، وہ ہمیشہ موقع کے لحاظ سے اپنے فارم ہاؤس پر دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں، اور وہ بھی اپنی جیب سے نہ کہ ادارے کے پیسوں سے!
ہزار خوبیوں کے مالک جناب ۔ بیریا صاحب کے کارناموں کو یادگار صورت میں بنائی جا رہی یادگار کے لیے اور پروگرام کے لیے میں اپنی طرف سے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ رب کریم آپ کو ہمیشہ خوشحال رکھے، آباد رکھے، پوری فیملی کو شاداب رکھے۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!