مضامین

محنت کی سزا؟ AIMIM میں ٹکٹوں کی تقسیم پر پرانے نگرسیوک ناراض، قیادت کے لیے سنجیدہ امتحان

jameel ahmed shaikh urdu journalistاز قلم: جمیل احمد شیخ
چیف ایڈیٹر:کاوش جمیل
آنے والے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کے پیشِ نظر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم پر سیاسی حلقوں میں خاصی گہماگہمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پارٹی نے اس بار چند موجودہ اور تجربہ کار نگرسیوکوں (کارپوریٹروں) کو نظرانداز کرتے ہوئے نئے چہروں کو ٹکٹ دیے، جس کے نتیجے میں نہ صرف پرانے نگرسیوک بلکہ بعض ذمہ دار عہدہ دار بھی شدید ناراض ہوگئے ہیں۔ یہ ناراضگی براہِ راست پارٹی کے ریاستی صدر سید امتیاز جلیل تک پہنچ چکی ہے۔
پارٹی سے وابستہ حلقوں اور اردو اخبارات میں شائع تجزیوں کے مطابق، جن کارپوریٹروں کو ٹکٹ نہیں ملا وہ کوئی وقتی یا غیر فعال چہرے نہیں تھے، بلکہ وہ لوگ تھے جنہوں نے برسوں تک پارٹی کے لیے دن رات محنت کی، عوامی مسائل سڑکوں سے ایوان تک اٹھائے، مشکل حالات میں بھی پارٹی کا پرچم بلند رکھا اور اپنی ذاتی زندگی، وقت اور وسائل کو AIMIM کے لیے وقف کیا۔ ایسے کارکنان اور نمائندوں کو اچانک نظرانداز کرنا نہ صرف ان کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے بلکہ اس سے پارٹی کے اندر ایک غلط پیغام بھی جاتا ہے کہ مسلسل محنت اور وفاداری کی وہ قدر نہیں کی جا رہی جس کی توقع ایک نظریاتی جماعت سے کی جاتی ہے۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ نئے چہروں کو موقع دینا بذاتِ خود کوئی غلط بات نہیں، مگر اس عمل میں تجربہ کار اور محنتی نمائندوں کو یکسر نظرانداز کرنا ایک سنجیدہ سوال کھڑا کرتا ہے۔ پارٹی کی مضبوطی صرف نعروں یا نئی قیادت سے نہیں بلکہ پرانے اور نئے کارکنان کے امتزاج سے ممکن ہوتی ہے۔ اگر برسوں سے کام کرنے والے کارپوریٹر خود کو نظرانداز شدہ محسوس کریں گے تو اس کا اثر صرف چند افراد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ نچلی سطح تک پارٹی کارکنان میں بے چینی اور بددلی پیدا ہو سکتی ہے۔
اسی تناظر میں، AIMIM کے لیے یہ وقت نہایت اہم ہے کہ وہ اندرونی اختلافات کو سنجیدگی سے لے۔ پارٹی قیادت، بالخصوص ریاستی صدر سید امتیاز جلیل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوری طور پر ناراض رہنماؤں، کارپوریٹروں اور عہدہ داروں سے بات چیت کریں، ان کے تحفظات سنیں اور شفاف انداز میں ٹکٹوں کی تقسیم کے معیار اور وجوہات کو واضح کریں۔ جو الزامات یا شکوک سامنے آ رہے ہیں، انہیں محض نظرانداز کرنے کے بجائے ٹھوس دلائل اور عملی مثالوں کے ساتھ دور کرنا ناگزیر ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ AIMIM کی سیاست ہمیشہ نظم و ضبط، نظریاتی وابستگی اور اجتماعی فیصلوں پر مبنی رہی ہے۔ اگر آج یہی جماعت اپنے ہی دیرینہ ساتھیوں کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہی تو مخالفین کو تنقید کا موقع ملے گا اور پارٹی کے اندر انتشار کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں کارکنان کا منتشر ہونا، انتخابی مہم کی رفتار کو سست کر سکتا ہے، جس کا براہِ راست نقصان پارٹی کو ہی ہوگا۔
لہٰذا، یہ رپورٹ نہ صرف ایک تنقیدی جائزہ ہے بلکہ ایک مخلصانہ نصیحت بھی۔ AIMIM کو مضبوط بنانے، قیادت کی سنجیدگی اور دوراندیشی ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اختلافات کو دبانے کے بجائے سلجھایا جائے، ناراض لوگوں کو گلے لگایا جائے اور یہ پیغام دیا جائے کہ پارٹی میں محنت، وفاداری اور قربانی کی قدر کی جاتی ہے۔ اگر بروقت اور مثبت قدم اٹھائے گئے تو نہ صرف موجودہ ناراضگی کم ہو سکتی ہے بلکہ پارٹی ایک مضبوط، متحد اور منظم قوت کے طور پر انتخابات میں ابھر سکتی ہے،ورنہ اندیشہ ہے کہ یہ بے چینی آگے چل کر بڑے سیاسی نقصان میں تبدیل ہو جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!