مہاراشٹر

اورنگ آباد : رشید ماموں کو ٹکٹ،امیدواروں کے انتخاب میں امباداس دانوے کا غلبہ، کھیرے کی سیاسی حیثیت کمزور؟ رشید ماموں کی امیدواری سے کھیرے ہوئے سخت ناراض

اورنگ آباد: (کاوش جمیل نیوز) :ٹھاکرے گروپ میں سابق میئر رشید ماموں کے پارٹی میں شامل ہونے کے بعد پارٹی کے اندرشدید ردِعمل سامنے آیا تھا اوراس فیصلے کو تنقیدی انداز میں ’’ماموں سینا‘‘ کہا گیا۔ اس کے باوجود جب رشید ماموں کو باضابطہ طور پر امیدوار بنایا گیا تو شیو سینا کے سینئر رہنما چندرکانت کھیرے سخت ناراض ہو گئے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برسوں کی وفاداری کا ایسا انجام ہوگا، یہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
کھیرے کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ایک سینئر رہنما کی مخالفت کے باوجود رشید ماموں کو امیدوار بنا کر ان کی سیاسی حیثیت کو دانستہ طور پر کمزور کیا گیا ہے، جس کا پیغام براہِ راست کارکنوں تک گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی سوچ سمجھ کر بدنامی کی جا رہی ہے۔
کھیرے نے یہ بھی یاد دلایا کہ یکساں سول کوڈ کی حمایت میں نکالے گئے ایک مورچے کے دوران رشید ماموں پر پتھراؤ کروانے کا الزام لگا تھا، جس کے باعث ان کی شبیہ ایک فساد پھیلانے والے لیڈر کی بنی ہوئی ہے۔ اسی بنیاد پر چندرکانت کھیرے نے پہلے ہی رشید ماموں کو پارٹی میں شامل کرنے کے فیصلے کو غلط قرار دیا تھا اور ان کی امیدوار ی کی کھل کر مخالفت کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ شیو سینا نے اس مرتبہ سات مسلم امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے، جن کے نام فہرست میں شامل ہیں۔
سیاسی حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مہانگر پالیکا انتخابات کے دوران بڑے سیاسی جماعتیں انتخابی ماحول کو ہندو-مسلم رنگ دینے کی حکمتِ عملی اپنائیں گی، اور اسی وجہ سے بی جے پی، رشید ماموں کے ٹکٹ کو بنیاد بنا کر ٹھاکرے گروپ کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ اسی پس منظر میں چندرکانت کھیرے نے اپنی ناراضگی کے اظہار کے لیے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت سے بھی رابطہ کیا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کھیرے کو پارٹی کے اندرنظرانداز کیا گیا ہو۔ اس سے قبل جب رام داس قدم پالک منتری تھے تو اس دور میں بھی چندرکانت کھیرے کو سیاسی طور پر کمزور کیے جانے کا الزام لگتا رہا۔ بعد ازاں لوک سبھا میں شکست کے بعد انہوں نے پرینکا چترویدی کو امیدوار بنانے پر بھی اعتراض کیا تھا۔ پارٹی قیادت پر کھلے عام تنقید کرنے کے سبب ایک وقت ایسا بھی آیا جب سینئر قیادت نے انہیں زیادہ اہمیت نہیں دی۔ مگر اب رشید ماموں کو دی گئی امیدوار ی کے بعد ان کی ناراضگی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شیو سینا (ٹھاکرے گروپ) میں امیدواروں کے انتخاب پر سینیئر لیڈر امباداس دانوے کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر نظر آ رہا ہے۔ آئندہ دنوں میں‌دیکھنا دلچسپ ہوگا اس فیصلے سے کھیرے اگلا قدم کیا اُٹھائیں گے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!