بالاپور:شطرنجی پورہ کے نل کے پانی میں جراثیم کی موجودگی؛ محکمۂ صحت کی لیبارٹری رپورٹ سے تشویشناک انکشاف

بالاپور : (ذاکر احمد) :شہر کے شطرنجی پورہ علاقے میں عوامی صحت سے متعلق ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ ارمانی میڈیکل کے قریب واقع عوامی نل کے پانی کے نمونے میں جراثیم پائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث یہ پانی پینے کے قابل نہیں رہا۔ یہ بات ضلع صحت لیبارٹری، اکولہ کی رپورٹ میں واضح کی گئی ہے۔
مہاراشٹر ریاستی محکمۂ صحت عامہ کی جانب سے 12 مارچ 2026 کو لیے گئے اس پانی کے نمونے کی مائیکرو بایولوجیکل جانچ کی گئی۔ جانچ کے نتائج کے مطابق ہر 100 ملی لیٹر پانی میں 16 کولِیفارم بیکٹیریا اور 4 تھرمو ٹالرنٹ بیکٹیریا پائے گئے، جبکہ ای۔کولائی بیکٹیریا نہیں پایا گیا۔ تاہم پانی میں جراثیم کی موجودگی کے باعث اسے انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ اس نمونے کی جانچ 12 مارچ سے شروع ہوکر 17 مارچ 2026 کو مکمل ہوئی اور اسی روز حتمی رپورٹ جاری کی گئی۔
اس تشویشناک رپورٹ کے بعد شطرنجی پورہ علاقے کے مکینوں میں خوف اور تشویش کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے آلودہ پانی کے استعمال سے ٹائیفائیڈ، ہیضہ اور دست جیسی پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ بلدیہ کے رکن محمد اکرم نے بھی انتظامیہ سے فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نل کی لائنوں میں رساؤ کی فوری جانچ کر کے مرمت کی جائے، پانی میں مناسب مقدار میں کلورین ملائی جائے اور پانی کی باقاعدہ جانچ کر کے صاف و محفوظ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا،“ہم شہریوں کی صحت کے معاملے میں کسی قسم کی سمجھوتہ نہیں ہونے دیں گے۔ متعلقہ محکمہ فوری اقدامات کرے۔”




