مہاراشٹر

بالاپورمیں تعلیمی انقلاب کی نئی شروعات؛ نگر پریشد اسکولوں کی درجہ واڈھ سے طلبہ کے روشن مستقبل کی راہ ہموار

zakir ahmed shaikh kawish e jameel reporter balapurبالاپور : (ذاکر احمد) :قومی تعلیمی پالیسی (NEP-2020) اور بچوں کے مفت و لازمی حقِ تعلیم قانون (RTE-2009) کے تحت نگر پریشد بالاپور کے اسکولوں کی درجہ واڈھ (Upgradation) کو منظوری ملنے کے بعد شہر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس فیصلے کو بالاپور کی تعلیمی تاریخ کا ایک اہم اور تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
حاصل شدہ معلومات کے مطابق جماعت اول تا چہارم والے اسکولوں کو اب جماعت اول تا پنجم تک اور جماعت اول تا ہفتم والے اسکولوں کو جماعت اول تا ہشتم تک تدریس کی منظوری حاصل ہو گئی ہے، جس سے طلبہ کو مزید بہتر اور مسلسل تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔
معلوم ہوا ہے کہ حکومتِ مہاراشٹر کے 15 مارچ 2024 کے حکمنامہ (GR) کے مطابق نگر پریشد بالاپور کے 15 اسکولوں کی درجہ واڈھ کے لیے تجاویز محکمہ تعلیم کو ارسال کی گئی تھیں۔ ان میں سے متعدد تجاویز کو منظوری حاصل ہو چکی ہے جبکہ بعض تجاویز تکنیکی وجوہات کی بنا پر زیرِ غور ہیں۔
شکشن سبھا پتی اور تعلیمی کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر سامیہ شجر نے بتایا کہ باقی تجاویز کی منظوری کے لیے متعلقہ محکموں سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے اور جلد مثبت نتائج کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض عناصر نے اس تعلیمی اقدام میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم عوامی مفاد اور تعلیمی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے کوششیں جاری رکھی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد کسی کی مخالفت نہیں بلکہ سرکاری اسکولوں کو مضبوط اور فعال بنانا ہے۔
نگر پریشد انتظامیہ کے مطابق اب مستقبل میں منتخب ہونے والے اساتذہ کے لیے TET پاس ہونا لازمی ہوگا۔ گزشتہ سال سات TET اہل اساتذہ کی تقرری بھی کی گئی ہے جبکہ موجودہ اساتذہ نے بھی مطلوبہ اہلیت حاصل کر لی ہے۔
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکولوں کی بقا اور ترقی معاشرے کے غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ اسی لیے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا داخلہ نگر پریشد اسکولوں میں کرائیں اور سرکاری تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے میں تعاون کریں۔
اس تاریخی کامیابی کا سہرا رکن اسمبلی نتین دیشمکھ، رکن اسمبلی ساجد خان پٹھان، نگر پریشد کی نو منتخب صدر ڈاکٹر آفرین پروین، چیف آفیسر راہول کنکاڈ، اے او الحاج کلیم سر اور تمام منتخب عوامی نمائندوں کے سر باندھا جا رہا ہے جنہوں نے اس مسئلے میں مثبت کردار ادا کیا۔ "تعلیم ہی حقیقی سماجی تبدیلی کی بنیاد ہے، اور مضبوط سرکاری اسکول ہی ترقی یافتہ معاشرے کی ضمانت ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!