مہاراشٹر

بالاپورکے تاریخی قلعہ اورچھتری کی خستہ حالی پربمبئی ہائی کورٹ کا سخت نوٹس، مرکزی حکومت سمیت متعلقہ محکموں کو نوٹس جاری

zakir ahmed shaikh kawish e jameel reporter balapurبالاپور: (ذاکر احمد) :شہر کے تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بالاپور کے رہائشی اور سابق فضائیہ افسر محمد قیصر فاروق کی جانب سے دائر مفادِ عامہ کی عرضی (PIL42/2026) پر بمبئی ہائی کورٹ کی ناگپور balapur qila and chatri بنچ نے سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیا ہے۔
15 جون 2026 کو ہونے والی سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ معین خان اور ایڈوکیٹ فرقان دانش نے دلائل پیش کیے، جبکہ حکومتِ ہند کی جانب سے ڈپٹی سالیسٹر جنرل آف انڈیا کارتک شکلا نے اپنا موقف عدالت کے سامنے رکھا۔
تفصیلی سماعت کے بعد جسٹس انیل کیلور اور جسٹس آر۔ ڈی۔ واکوڑے پر مشتمل بنچ نے وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI)، ضلع کلکٹر اکولہ اور سب ڈویژنل آفیسر بالاپور کو نوٹس جاری کیا ہے۔
عدالت نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ چھ ہفتوں کے اندر بالاپور کے تاریخی قلعہ اور چھتری کی موجودہ حالت، تحفظ کے اقدامات اور مبینہ بدانتظامی کے بارے میں تفصیلی جواب داخل کریں۔
عرضی گزار نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آثارِ قدیمہ کے محکمے کی مبینہ غفلت اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہ تاریخی عمارتیں مسلسل خستہ حال ہوتی جا رہی ہیں۔ عرضی میں ان عمارتوں کی فوری مرمت، صفائی اور مؤثر تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بالاپورکی تاریخی شناخت سے جڑے اس اہم معاملے پر شہریوں کی نظریں اب آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں، جو چھ ہفتوں بعد مقرر کی گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!