مہاراشٹر

"آپریشن ٹائیگر”کامیاب؟ ٹھاکرے گروپ میں بڑی بغاوت؛ 6 ایم پیزکی بغاوت نے سیاست گرمائی؛ شندے ہوں گے اگلے وزیرِ اعلیٰ؟ اتحادی ایم ایل اے کا بڑا دعویٰ

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :سابق وزیرِ اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی کے نو میں سے چھ ارکانِ پارلیمان الگ ہو گئے ہیں اور انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنا علیحدہ گروپ تشکیل دے لیا ہے۔
اس سیاسی پیش رفت کے بعد ریاستی سیاست میں ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کی زبردست چرچا شروع ہو گئی ہے۔ شندے گروپ کے رکن اسمبلی نریندر بھونڈیکر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس آپریشن سے نائب وزیرِ اعلیٰ ایکناتھ شندے کی سیاسی طاقت میں اضافہ ہوگا اور مستقبل میں وہ دوبارہ مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ بن سکتے ہیں۔
بھونڈیکر نے سنجے راؤت کے اس الزام کو بھی مسترد کر دیا کہ ٹھاکرے گروپ کے ہر رکنِ پارلیمان کو 15 کروڑ روپے دے کر توڑا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نظر نہیں آتی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مستقبل میں سنجے راؤت بھی ایکناتھ شندے کے ساتھ آ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ادھو ٹھاکرے کی پارٹی کی دوسری صف کی قیادت مضبوط نہیں ہے، اسی وجہ سے ان کے ارکانِ پارلیمان اور آئندہ کچھ ارکانِ اسمبلی بھی شندے گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ بھونڈیکر کے مطابق موجودہ وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڑنویس ریاست کو بہتر انداز میں چلا رہے ہیں، تاہم مستقبل میں وہ قومی سیاست میں جا سکتے ہیں اور اس صورت میں ایکناتھ شندے کو وزیرِ اعلیٰ بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب بی جے پی کے ریاستی صدر اور وزیر چندر شیکھر باونکولے نے کہا کہ ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے ادھو ٹھاکرے کو مشورہ دیا کہ وہ خود احتسابی کریں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ان کے ارکانِ پارلیمان اور ارکانِ اسمبلی انہیں کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ باونکولے نے واضح کیا کہ اس معاملے میں بی جے پی یا وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڑنویس کا کوئی کردار نہیں ہے۔
ادھر سماجی کارکن انجلی دمانیا نے الزام لگایا ہے کہ ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ دراصل بی جے پی کی منصوبہ بندی ہے اور ایکناتھ شندے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹھاکرے گروپ کے ایک رکنِ پارلیمان کو وزارت اور 100 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔
انجلی دمانیا نے کہا کہ اگر عوام کے منتخب نمائندے اپنے ووٹ اور عوامی اعتماد کو اس طرح فروخت کریں تو یہ جمہوریت کے لیے انتہائی تشویشناک بات ہے۔ ان کے مطابق لوک سبھا میں اہم بل منظور کرانے کے لیے یہ پوری سیاسی حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے۔
ادھر این سی پی (شرد پوار گروپ) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کو ’’آپریشن بازار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس بازار میں وفاداریاں، انسان یا نظریات فروخت ہو رہے ہیں۔
اس سیاسی ہلچل کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں نئی صف بندیوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید اہم سیاسی پیش رفت سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!