اورنگ آباد: سالگرہ کی عیاشی کے لئے خون کی ہولی؛ کروزپارٹی کے شوق نے لی ایک بے گناہ کی جان؛ لوٹ مار کے دوران مسلم اسکریپ تاجر کا قتل؛ اورنگ آباد میں سنسنی؛آئے دن شہرمیں بڑھتے قاتلانہ حملوں سے شہر میں بے چینی

اورنگ آباد: (کاوش جمیل نیوز) :شہرکے وی آئی پی جالنہ روڈ پر 2 جولائی کی علی الصبح ہونے والے کباڑ کاروباری عبدالباسط حکیم خان کے قتل کی گتھی سلجھانے میں پولیس کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پولیس تفتیش میں ایک نہایت چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ گینگ کے سرغنہ کو اپنی سالگرہ گوا جا کر ایک پرتعیش کروز پر منانی تھی، اور اس کے لیے رقم اکٹھی کرنے کی غرض سے اس گینگ نے شہر میں لوٹ مار کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
اس معاملے میں کرائم برانچ نے مرکزی ملزم مکیش عرف مکیہ مہندر سالوے (عمر 29 سال) اور وکّی عرف سونو مدھوکر پاچونے (عمر 22 سال، دونوں ساکن مکندواڑی) کو گرفتار کر لیا ہے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو 8 جولائی تک پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔
پولیس کے مطابق، یکم جولائی کی رات عبدالباسط حکیم خان اپنے کام کے سلسلے میں گھر سے نکلے تھے۔ رات گئے وہ سڈکو بس اسٹینڈ سے رکشے کے ذریعے آئے اور ایس ایف ایس اسکول کے قریب اتر کر جنسی علاقے کی طرف پیدل روانہ ہوئے۔ رات تقریباً ڈھائی بجے آکاش وانی چوک کے قریب واقع پنچم بار کے سامنے، پیچھے سے آنے والے مکیہ سالوے اور وکّی پاچونے نے انہیں روک لیا اور ان سے تمباکو مانگی۔
عبدالباسط نے جواب دیا کہ وہ کسی قسم کا نشہ نہیں کرتے۔ اس پر دونوں ملزمان نے ان کا موبائل فون چھیننے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران ہونے والی ہاتھا پائی میں مرکزی ملزم مکیہ سالوے نے عبدالباسط کی ران پر گہرا چاقو کا وار کیا۔ اس حملے میں ان کی اہم خون کی شریان کٹ گئی، جس کے باعث شدید خون بہنے سے ان کی حالت نازک ہو گئی۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم دورانِ علاج ان کا انتقال ہو گیا۔
واردات کے بعد پولیس کو گمراہ کرنے کی غرض سے ملزمان نے جان بوجھ کر مرکزی راستوں سے گریز کیا۔ وہ اپیکس اسپتال، چشتیہ چوک، کناٹ پلیس اور سڈکو برج کے راستے ہوتے ہوئے مکوندواڑی میں واقع اپنے گھروں تک پہنچے اور اطمینان سے سو گئے۔ تاہم، ان کی یہ پوری نقل و حرکت علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہو گئی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والی جسمانی ساخت اور حرکات و سکنات کی بنیاد پر ایک خفیہ مخبر نے مرکزی ملزم کو بدنام زمانہ مجرم مکیہ سالوے کے طور پر شناخت کر لیا۔ اس کے بعد کرائم برانچ کے پولیس انسپکٹر گجانن کلیانکر اور جنسی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر گنیش تاٹھے کی مشترکہ ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے گھروں پر چھاپہ مارا اور انہیں گرفتار کر لیا۔
اس واقعے نے شہر کی پولیس، بالخصوص مکوندواڑی پولیس کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مرکزی ملزم مکیہ سالوے کے خلاف پہلے ہی 25 سے زائد سنگین مقدمات درج ہیں، اس کے باوجود وہ آزادانہ طور پر جرائم کی وارداتوں میں ملوث رہا۔
پولیس تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مکیہ سالوے کی سالگرہ 3 جولائی کو تھی اور وہ اپنے مجرم ساتھیوں کو گوا لے جا کر ایک پرتعیش کروز پر شاندار پارٹی دینا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے رقم کی کمی کے باعث اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جالنہ روڈ پر لوٹ مار کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ تاہم، سالگرہ سے محض ایک دن قبل ہی پولیس نے اسے گرفتار کر کے لاک اپ پہنچا دیا، جس کے بعد اس کا گوا میں کروز پر سالگرہ منانے کا خواب ادھورا رہ گیا۔




