
اسپیشل رپورٹ
کاوش جمیل
ملک کی سیاست خصوصاً مہاراشٹر کی سیاسی فضا میں ان دنوں ایک نئی بحث نے زورپکڑ لیا ہے۔ سیاسی راہداریوں، ٹی وی مباحثوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمزاورمختلف سیاسی تجزیہ کاروں کے حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو مستقبل قریب میں ملک کا نائب وزیر اعظم بنایا جا سکتا ہے اور کیا مہاراشٹر میں موجودہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کی جگہ ایک مرتبہ پھر ایکناتھ شندے کو وزیر اعلیٰ کی کرسی سونپی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ان سوالات پر باضابطہ طور پر نہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کوئی اعلان کیا ہے اور نہ ہی مہایوتی اتحاد کے کسی اہم رہنما نے تصدیق کی ہے، تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والی سیاسی سرگرمیوں نے ان قیاس آرائیوں کو نئی جان ضرور بخشی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ گزشتہ ایک دہائی سے بھارتی سیاست میں سب سے بااثر رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ پارٹی تنظیم، انتخابی حکمت عملی اور حکومتی فیصلوں میں ان کا کردار نہایت اہم مانا جاتا ہے۔ حالیہ عرصے میں مختلف سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آئندہ مرکزی کابینہ میں ممکنہ توسیع یا سیاسی تبدیلیوں کے دوران امت شاہ کو نائب وزیر اعظم کا عہدہ دیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھارتی سیاست میں ایک اہم سیاسی پیش رفت تصور کی جائے گی۔ تاہم اب تک وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی حکومت یا بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی سرکاری اشارہ یا بیان سامنے نہیں آیا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ تاحال سیاسی تجزیوں اور قیاس آرائیوں تک محدود ہے۔
دوسری جانب مہاراشٹر کی سیاست میں نائب وزیر اعلیٰ اور شیو سینا کے سربراہ ایکناتھ شندے کی سیاسی حیثیت مسلسل مضبوط ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں مختلف بلدیاتی اور کوآپریٹو اداروں کے انتخابات میں شندے حامی گروپ کی کامیابیوں کو سیاسی حلقے ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسی دوران شیو سینا کے مختلف دھڑوں کے درمیان سیاسی سرگرمیوں اور بعض رہنماؤں کی وفاداریوں میں تبدیلی کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا مہاراشٹر میں ایک مرتبہ پھر اقتدار کے توازن میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں بعض اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے ایسے بیانات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ مہاراشٹر کی سیاست میں مستقبل قریب میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی نہ تو کسی آزاد ذریعے سے تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی مہایوتی اتحاد کے کسی ذمہ دار رہنما نے اس کی تائید کی ہے۔ اس کے برعکس بھارتیہ جنتا پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ دیویندر فڈنویس کی قیادت پر پارٹی کو مکمل اعتماد حاصل ہے اور حکومت مستحکم انداز میں کام کر رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امت شاہ اور ایکناتھ شندے کے درمیان گزشتہ چند برسوں سے موجود سیاسی ہم آہنگی اور قربت بھی ان قیاس آرائیوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ہر اہم سیاسی ملاقات، بیان یا حکومتی سرگرمی کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ جاتی ہے اور مختلف امکانات پر غور و خوض شروع ہو جاتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق، سیاست میں حالات تیزی سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور کسی بھی امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، تاہم کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے سرکاری اعلان یا مستند ذرائع کی تصدیق ضروری ہوتی ہے۔
فی الحال سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکز میں امت شاہ کو نائب وزیر اعظم بنانے اور مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کو دوبارہ وزیر اعلیٰ مقرر کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ، سرکاری اطلاع یا مصدقہ اطلاع موجود نہیں ہے۔ تاہم سیاسی حلقوں، میڈیا اور عوامی سطح پر اس موضوع پر بحث مسلسل جاری ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں مہاراشٹر اور قومی سیاست کی سمت پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ موجودہ حالات میں ان خبروں کو سیاسی قیاس آرائیوں اور ممکنہ سیاسی امکانات کے تناظر میں ہی دیکھا جا رہا ہے، جبکہ حتمی حقیقت کا انحصار مستقبل میں ہونے والے سیاسی فیصلوں اور سرکاری اعلانات پر ہوگا۔




