مہاراشٹرSIR : ریاست میں ایک کروڑ 80 لاکھ ووٹرکو نااہل قرار دیے جانے کا خطرہ؟ 17 اگست تک گنتی فارم جمع کرانے کی اپیل؛ دو جگہ ووٹر لسٹ میں نام رکھنے والوں پر ہوسکتی ہے قانونی کارروائی

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :ریاست مہاراشٹر میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) مہم کے تحت گھر گھر جا کر گنتی فارم پُر کروانے کا عمل آخری مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔ ریاست کے تقریباً 18.46 فیصد یعنی ایک کروڑ 80 لاکھ 60 ہزار ووٹروں نے اب تک گنتی فارم جمع نہیں کرائے ہیں۔ ایسے ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریاست کے چیف الیکشن آفیسر ایس. چوکّالنگم نے بدھ کو صحافتی کانفرنس میں ایسے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر گنتی فارم پُر کرکے جمع کرائیں۔
ریاست میں مجموعی طور پر 9 کروڑ 78 لاکھ 54 ہزار ووٹر ہیں۔ ان میں سے 99 فیصد یعنی 9 کروڑ 69 لاکھ 98 ہزار ووٹروں تک گنتی فارم پہنچائے جاچکے ہیں۔ ان میں سے 7 کروڑ 60 لاکھ 98 ہزار (77.77 فیصد) ووٹروں کے دستخط شدہ گنتی فارم کا ڈیجیٹائزیشن مکمل ہوچکا ہے، جبکہ 36 لاکھ 95 ہزار ووٹروں کے فارم پر کارروائی جاری ہے۔
جن 18.46 فیصد ووٹروں نے گنتی فارم جمع نہیں کرائے ہیں، ان میں زیادہ تر غیر حاضر، دوسری جگہ منتقل ہونے والے، فوت شدہ اور دوہرے اندراج والے ووٹر شامل ہیں۔ خاص طور پر ممبئی، تھانے، ناگپور، پال گھر اور رائے گڑھ اضلاع میں ایسے ووٹروں کی تعداد زیادہ بتائی گئی ہے۔
ممبئی شہر اور ممبئی مضافاتی اضلاع کو ملا کر اب تک تقریباً 63 فیصد گنتی فارم کا ڈیجیٹائزیشن مکمل ہوچکا ہے۔ تقریباً 30 فیصد فارم ووٹروں کی جانب سے جمع نہیں کرائے گئے جبکہ 7 فیصد معاملات پر کارروائی جاری ہے۔ تھانے میں بھی بڑی تعداد میں ووٹروں کے دوسری جگہ منتقل ہونے کی وجہ سے بوتھ لیول آفیسرز (BLO) کو ووٹروں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چیف الیکشن آفیسر کے مطابق بڑے شہری علاقوں میں نقل مکانی کرنے والی آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے ایسے معاملات کا تناسب نسبتاً زیادہ ہے۔
گنتی فارم جمع کرانے کا موجودہ عمل 17 اگست تک جاری رہے گا۔ جن ووٹروں کے گنتی فارم موصول نہیں ہوئے ہیں، ان کی فہرست متعلقہ ضلع کلکٹر کی ویب سائٹ پر جاری کی جائے گی۔ یہ فہرست سیاسی جماعتوں کو بھی فراہم کی جائے گی۔ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول نمائندوں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان فہرستوں کی جانچ کریں۔ اگر فہرست میں کسی اہل ووٹر کا نام غلط طور پر شامل کیا گیا ہو تو اس کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ انتخابی افسر کو دی جاسکتی ہے۔
گنتی فارم پُر کرنے کے لیے متعلقہ شہری کا اس مقام پر فی الحال رہائش پذیر ہونا اہم ہے۔ اگر 2002 کی ووٹر لسٹ میں میپنگ یا مماثلت نہیں ہوئی ہو یا ضروری دستاویزات فی الحال دستیاب نہ ہوں تب بھی شہری گنتی فارم جمع کرانے سے گریز نہ کریں۔ ضروری دستاویزات بعد میں جمع کرانے کا موقع دستیاب ہوگا۔
گنتی فارم میں ووٹر کا نام، موبائل نمبر، والدین کے نام اور اگر دستیاب ہو تو آدھار نمبر درج کرنا ہوگا اور فارم پر دستخط کرنا ہوں گے۔ خاندان کا کوئی بالغ فرد بھی خاندان کے کسی رکن کی جانب سے دستخط کرسکتا ہے۔ انتخابی فہرستیں روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کی جائیں گی، اس لیے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آخری تاریخ سے قبل فہرستوں کی باقاعدگی سے جانچ کرتے رہیں۔
24 اگست کو ابتدائی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔ اس کے بعد تقریباً ایک ماہ تک دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ 27 اکتوبر کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔ 24 اگست کے بعد ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے فارم نمبر 6، نام حذف کرانے کے لیے فارم نمبر 7 اور پتہ، موبائل نمبر، تصویر وغیرہ میں اصلاح کے لیے فارم نمبر 8 بھرا جاسکے گا۔ 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے نئے ووٹروں کے علاوہ موجودہ ووٹر لسٹ میں نام نہ رکھنے والے اہل شہری بھی اس عمل کے دوران درخواست دے سکیں گے۔
اگر کسی ووٹر کو ایک سے زیادہ مقامات پر گنتی فارم موصول ہوا ہے تو اسے ایک مقام کا اندراج مسترد کرنا ہوگا۔ ایک سے زیادہ مقامات پر ووٹر کے طور پر نام درج ہونا قانون کے مطابق کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔ انتخابی نظام کی جانب سے تصویر کی بنیاد پر یکساں اندراجات کی جانچ کی جارہی ہے، تاہم شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ خود اس بات کی تصدیق کریں کہ ان کا نام ایک سے زیادہ مقامات کی ووٹر لسٹ میں درج نہ ہو۔




