مہاراشٹر

مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کا تاریخی فیصلہ: بانیڑ مسجد پونا کی وقف اراضی کی فروخت غیر قانونی قرار؛ وقف املاک کی حفاظت کرنا ہمارا شرعی فریضہ ہے : مولانا حلیم اللہ قاسمی

ممبئی: (۳۰؍ ستمبر) :مہاراشٹر وقف بورڈنے گزشتہ دنوں ایک تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے ماضی میں دیئے گئے اپنے ہی فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا ، جس کے مطابق وقف کی ایک اہم اراضی کی فروخت کی اجازت مسترد کردی گئی ۔
مہاراشٹر وقف بورڈ کا فیصلہ پونے کے بانیڑ علاقے میں واقع اربوں روپے مالیت کی وقف اراضی سے متعلق ہے۔یہ وقف کی جگہ جس کا کل رقبہ 7 ہیکٹر 74 آر ہے ۔ اور یہ جگہ بانیڑ (پونا) کے سروے نمبر 99/1،میں واقع ہے ۔
یہ تاریخی فیصلہ وقف بورڈ کی میٹنگ منعقدہ 11 اگست 2026 کی قرارداد نمبر 21 اور 2 ستمبر 2026 کے جاری کردہ باضابطہ حکم نامے کے تحت سامنے آیا ہے۔
وقف بورڈ کا فیصلہ آنے کے بعد آج حافظ محمد ذاکر صدیقی (صدر جمعیۃعلماء ضلع بیڑ ) کی قیادت میں ایک وفد نے ممبئی میں صدر جمعیۃعلماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی ،جنرل سکریٹری مفتی محمد یوسف قاسمی ،خازن مولانا اشتیاق احمد قاسمی و دیگر سے ملاقات کی ۔اوربیڑ جمعیۃعلماء کی طرف سے وقف بورڈمیں کی گئی قانونی چارہ جوئی کی روداد پیش کی ۔اس موقع پر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے بیڑ جمعیۃعلماء کی کوششوں کی سراہنا کرتے ہوئے ان کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ وقف املاک کی حفاظت کرنا ہمارا شرعی فریضہ ہے ۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ ماضی کے غیر قانونی فیصلے کو وقف بورڈ نے تبدیل کرکے وقف املاک کی حفاظت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر فریق مخالف وقف بورڈ کے تازہ فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرتا ہے تو وہاں بھی اس کی مخالفت کی جائے گی، جس کے تعلق سے وکلاء سے صلاح و مشورہ کیا جا رہا ہے۔keva kaipo urdu poster
وفد میں فاروق پٹیل (نائب صدر جمعیۃعلماء ضلع بیڑ) ،مزمل پٹیل( شہر صدر مانجل گائوں) حافظ سمیع (شہر صدر بیڑ) جمیل صدیقی ،حامد خان ،حافظ مزمل ،الیاس بھائی (رکن جمعیۃعلماء ضلع بیڑ ) و دیگرشامل تھے۔
واضح رہےکہ جمعیۃعلماء ضلع بیڑ کی شکایت پر وقف بورڈ کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اصل ادارہ ’’اُڑن شاہ ولی درگاہ ٹرسٹ، بانیڑ‘‘ (رجسٹریشن نمبر B-382) پہلے سے ہی بامبے پبلک ٹرسٹ ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ تھا۔ اس کے باوجود سال2005- 2004میں ’’بانیڑ مسجد‘‘ کے نام سے کی گئی رجسٹریشن بالکل غیر قانونی اور ضوابط کے خلاف تھی جسے اب باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔
وقف بورڈ نے اصل ادارے ’’اُڑن شاہ ولی درگاہ ٹرسٹ‘‘ کو وقف ایکٹ 1995 کی دفعہ 43 کے تحت اس کی تمام تر جائداد و املاک سمیت ’’فرض کردہ وقف قرار دیا ہے۔ اوروقف بورڈ نےسرکاری دفاتر کو فوری کارروائی کی ہدایت دی کہ ریونیو ریکارڈ (7/12) میں اصل وقف ادارے کا نام درج کیا جائے۔ اس کے علاوہ سب رجسٹرار (حویلی) کو اس غیر قانونی رجسٹریشن کی بنیاد پر کی گئی تمام خریدو فروخت اور دیگر دستاویزات کو سرکاری ریکارڈ سے منسوخ کرنے کے باضابطہ احکامات دیے گئے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!