دین میں غلو کیوں؟ مذہبی معاملات میں اعتدال اور صحیح فہم وقت کی اہم ضرورت ہے! مولانا اسماعیل اشاعتی کا آج مسجد بلدار حافظ، کاغذی پورہ میں خطابِ جمعہ سے قبل اہم بیان؛ موضوع: ’’غلو فی الدین کسے کہتے ہیں؟ دین کے کاموں میں غلو کیسے کیا جاتا ہے؟‘‘

زاکر احمد شیخ، بَالاپور
بالاپور : بروز جمعہ، 9 اکتوبر 2026ء دین سے محبت اور دینی احکام پر عمل ہر مسلمان کی زندگی کا اہم حصہ ہے، لیکن مذہبی معاملات میں مقررہ حدود سے تجاوز اور غیر ضروری شدت اختیار کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ دین میں غلو کیا ہے؟ دینی کاموں میں اس کی کون کون سی صورتیں سامنے آتی ہیں؟ اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اعتدال و توازن کیسے برقرار رکھا جائے؟ ان اہم سوالات پر آج جمعہ، 9 اکتوبر کو مسجد بلدار حافظ، کاغذی پورہ، بالاپور میں مولانا اسماعیل اشاعتی نےخطابِ جمعہ سے قبل خصوصی بیان کیا۔
بیان کا مرکزی موضوع ’’غلو فی الدین کسے کہتے ہیں؟ دین کے کاموں میں غلو کیسے کیا جاتا ہے؟‘‘ اس موقع پر دینی معاملات کی صحیح سمجھ، شریعت کی مقررہ حدود کی پاسداری اور افراط و تفریط سے بچنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
دین میں اعتدال، زندگی میں توازن
اسلامی تعلیمات میں اعتدال، حکمت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ دینی جذبے کے ساتھ صحیح علم اور معتبر رہنمائی بھی ضروری ہے، تاکہ مذہبی معاملات میں غلط فہمی، بے جا سختی اور غیر ضروری شدت سے بچا جاسکے۔
مولانا اسماعیل اشاعتی کا یہ بیان سامعین کو اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتاہےکہ دینی احکام پر عمل کرتے ہوئے شرعی حدود کا خیال رکھنا کیوں ضروری ہے اور دین کی حقیقی تعلیمات کو درست انداز میں سمجھنا کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔
جمعہ کی نماز سے قبل بیان
یہ اہم بیان آج جمعہ کی نماز سے قبل مسجد بلدار حافظ، کاغذی پورہ، بَـالاپور میں ہوا۔ اہلِ علاقہ اور نمازی حضرات کے لیے یہ موضوع دینی فہم میں بہتری، اعتدال پسندی اور اسلامی تعلیمات پر ذمہ دارانہ عمل کی اہمیت کو سمجھنے کے لیئے بہترین موقع فراہم ہوا،




