مہاراشٹر

حُسن، نسب اور خاندان کا غرور کیوں؟ اصل خوبصورتی اچھے کردار میں ہے

بالاپور : انسان کی اصل خوبصورتی اس کے چہرے میں نہیں بلکہ اس کے کردار، اخلاق اور رویّے میں ہوتی ہے۔ خوبصورتی، خاندان، نسب، دولت یا سماجی حیثیت پر غرور انسان کو بڑا نہیں بناتا، بلکہ تکبر اس کی شخصیت کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ یہی فکر انگیز اور اصلاحی پیغام جمعہ، 2 اکتوبر کو کاغذی پورہ مسجد بلدار حافظ میں ہونے والے جمعہ کے بیان میں دیا گیا۔
مسجد کے امام و خطیب مولانا اسماعیل اشاعتی نے جمعہ کے بیان اور خطبے میں ’’ایک اچھا انسان بننے کے لیے کن چھ چیزوں سے بچنا چاہیے؟‘‘ کے موضوع پر تفصیلی رہنمائی کی۔ بیان میں چوتھے نکتے کے طور پر خوبصورتی، نسب اور خاندان کو لے کر غرور و تکبر سے بچنے کی خصوصی تاکید کی گئی۔keva kaipo urdu poster
مولانا نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اپنے حسن، خاندان یا نسب پر خوش ہونا ایک الگ بات ہے، لیکن انہی چیزوں کی بنیاد پر دوسروں کو کمتر سمجھنا اور اپنے آپ کو برتر سمجھنا انسان کے لیے نقصان دہ ہے۔ انسان کی حقیقی پہچان اس کے خاندان یا ظاہری شکل و صورت سے نہیں بلکہ اس کے اخلاق، کردار، عاجزی، حسنِ سلوک اور نیک اعمال سے ہوتی ہے۔
موجودہ دور میں ظاہری خوبصورتی، خاندانی شناخت اور سماجی مرتبے کو غیر ضروری اہمیت دی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں جمعہ کے بیان کے ذریعے لوگوں کو یہ احساس دلایا گیا کہ ظاہری شان و شوکت عارضی ہے، جبکہ انسان کے اچھے اعمال اور حسنِ اخلاق ہی اس کی حقیقی پہچان بنتے ہیں۔
بیان کا یہی اثر ؛ ہر ہفتے بڑھ رہی ہے۔ نمازیوں کی تعداد!
کاغذی پورہ مسجد بلدار حافظ میں مولانا اسماعیل اشاعتی کے جمعہ کے بیان اور خطبے کو سننے کے لیے شہر کے مختلف علاقوں سے نمازیوں کی شرکت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہر ہفتے ان کے پیچھے نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لیے آنے والے نمازیوں کی تعداد میں تقریباً دو سے تین افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔
جمعہ کا یہ بیان صرف مذہبی وعظ تک محدود نہیں رہا، بلکہ انسان کو اپنے کردار کا جائزہ لینے، تکبر سے بچنے اور دوسروں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کی دعوت بھی دے گیا۔ یہی پیغام ایک بہتر انسان اور بہتر معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!