مہاراشٹر

پیدائش و اموات کے سرٹیفکیٹ کے لیے پرانے ہاتھ سے لکھے ہوئے سرٹیفکیٹ کی شرط! پرانا سرٹیفکیٹ نہیں تو آن لائن سرٹیفکیٹ بھی نہیں؟ حکومتی فیصلے کی خامیوں سے شہری پریشان!

بالاپور : پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے خواہش مند شہریوں کو نئے حکومتی فیصلے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پرانے ہاتھ سے لکھے ہوئے سرٹیفکیٹ کے بغیر آن لائن سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں رکاوٹ پیدا ہونے کے معاملے پر انتظامی خامیوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں اکولہ کے ضلعی صحت افسر (DHO) کے ساتھ مہاوکاس اگھاڑی سرکار پریورتن پینل، بالاپور کے ایک نمائندہ وفد کی اہم میٹنگ منعقد ہوئی۔
نگر پریشد کی صدر آفرین پروین محمد ضمیر عرف جمّو سیٹھ کی قیادت میں ہونے والی اس میٹنگ میں ناصر حسین، خلیل پنجابی، شاہد پرویز خان، سلمان خان اور سید امیر محمود قادری شریک ہوئے۔ وفد نے پیدائش و اموات کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے طریقۂ کار میں پیش آنے والی مشکلات اور نئے حکومتی فیصلے سے پیدا ہونے والی انتظامی پیچیدگیوں کی جانب ضلعی صحت افسر کی توجہ مبذول کرائی۔
تین دستاویزات کے بغیر درخواست کی منظوری مشکل!
میٹنگ میں دی گئی معلومات کے مطابق، آن لائن پیدائش یا موت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے مقررہ درخواست فارم، پرانا ہاتھ سے لکھا ہوا پیدائش یا موت کا سرٹیفکیٹ اور نگر پریشد کے پیدائش و اموات رجسٹر کی نقل، ان تینوں دستاویزات کو منسلک کرنا ضروری بتایا گیا ہے۔
ان میں سے پرانا ہاتھ سے لکھا ہوا سرٹیفکیٹ موجود نہ ہونے کی صورت میں آن لائن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس سے پرانے ریکارڈ رکھنے والے شہریوں کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔
پرانا سرٹیفکیٹ موجود ہی نہیں تو شہری کہاں جائیں؟
وفد نے سوال اٹھایا کہ جن شہریوں کے پاس پرانا ہاتھ سے لکھا ہوا سرٹیفکیٹ موجود نہیں ہے، وہ اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کس محکمے سے رجوع کریں؟ نئے حکومتی فیصلے میں اس بات کی واضح وضاحت نہیں کی گئی کہ ایسے شہریوں کو پرانا سرٹیفکیٹ کون سا محکمہ جاری کرے گا۔
وفد کے مطابق، نگر پریشد کے موجودہ طریقۂ کار کے تحت نیا ہاتھ سے لکھا ہوا سرٹیفکیٹ جاری کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایسی صورت میں شہریوں کے لیے آن لائن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا راستہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
وفد نے مطالبہ کیا کہ اس انتظامی ابہام کو دور کرنے کے لیے واضح رہنما ہدایات جاری کی جائیں، تاکہ شہریوں کو اپنے ہی ضروری سرکاری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
پرانے سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی کی تصدیق بھی لازمی!
میٹنگ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر کسی شہری کے پاس پرانے پیدائش یا موت کے سرٹیفکیٹ کی صرف فوٹو کاپی یا زیراکس موجود ہے، تو اسے آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کرنے سے پہلے نگر پریشد کے چیف آفیسر (CO) سے باقاعدہ تصدیق کرانا لازمی ہوگا۔ تصدیق کے بغیر اپ لوڈ کی گئی درخواست ضلعی صحت افسر کی جانب سے مسترد کی جا سکتی ہے۔
RGI کی نئی ہدایات کا انتظار
وفد کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، جب تک بھارت کے رجسٹرار جنرل (RGI) کی طرف سے مہاراشٹر حکومت کو اس سلسلے میں نئی رہنما ہدایات موصول نہیں ہوتیں، پرانا ہاتھ سے لکھا ہوا سرٹیفکیٹ نہ رکھنے والے شہریوں کو آن لائن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہ سکتا ہے۔
پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ تعلیم، سرکاری اسکیموں اور مختلف انتظامی امور کے لیے اہم دستاویزات ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ قواعد پر عمل درآمد کے ساتھ ان شہریوں کے لیے بھی واضح اور قابلِ عمل متبادل فراہم کیا جائے، جن کے پاس پرانے ریکارڈ کی اصل نقل موجود نہیں ہے۔
منجانب : مہاوکاس اگھاڑی سرکار پریورتن پینل، بالاپور۔
زیرِ قیادت : نگر پریشد صدر آفرین پروین محمد ضمیر عرف جمّو سیٹھ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!