بڑھتی گرمی پر عوامی بیداری کا پیغام؛ “پہلے درخت لگائیے”؛ ماحولیات کے تحفظ کے لیے عوام سے جذباتی اپیل

بالاپور: 26 مئی : (بذریعہ ذاکر احمد) :ریاست سمیت پورے ملک میں مسلسل بڑھتی ہوئی شدید گرمی، ریکارڈ توڑ درجۂ حرارت اور تیزی سے کم ہوتی ہریالی نے عوامی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ موسمی بے ترتیبی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیشِ نظر اب سماجی سطح پر ماحولیات کے تحفظ کے لیے بیداری مہمات میں تیزی آ رہی ہے۔ سوشل میڈیا، سماجی تنظیموں اور ماحول دوست افراد کی جانب سے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ شجرکاری کرنے اور درختوں کی حفاظت کی اپیل کی جا رہی ہے۔
ان دنوں “گھر کے سامنے چار درخت لگائیے، سایہ ضرور ملے گا” جیسے پیغامات عوام میں شعور بیدار کر رہے ہیں۔ ان پیغامات کے ذریعے شہریوں کو یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ اگر آج درخت نہیں لگائے گئے تو آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔ عوام کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ موجودہ وقت میں 45 ڈگری تک پہنچنے والا درجۂ حرارت مستقبل میں 50 ڈگری سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
ماحولیات سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اندھا دھند درختوں کی کٹائی، تیزی سے بڑھتی شہری آبادی اور آلودگی قدرتی توازن کو بگاڑ رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر عام انسانی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ شدید گرمی، لو، پانی کی قلت اور آلودہ فضا جیسے مسائل اب ہر طبقے کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ایسے میں ہر شخص کو اپنے گھر، کھیت، سڑک کنارے اور عوامی مقامات پر
زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہئیں۔
صرف حکومت کے سہارے ماحولیات کا تحفظ ممکن نہیں، بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ انہوں نے نوجوانوں سے آگے بڑھ کر شجرکاری مہم کو عوامی تحریک بنانے کی اپیل کی۔
[پروفیسر ظفر حسین شیخ ]
“درخت لگاؤ، درخت بچاؤ” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ مستقبل دینے کا عزم ہے۔ انہوں نے کہا
کہ صرف پودے لگانا کافی نہیں بلکہ ان کی دیکھ بھال کر کے انہیں زندہ رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
[ آصف شاہ، ڈی ایس ایس بی گروپ ]
سماجی کارکنان کا ماننا ہے کہ اگر اسکول، کالج، سماجی تنظیمیں اور گرام پنچایتیں مل کر وسیع پیمانے پر شجرکاری مہم چلائیں تو آنے والی نسلوں کو صاف ہوا، ٹھنڈی چھاؤں اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔ عوام سے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ماحولیات کے تحفظ کو ترجیح دینے کی اپیل کی گئی ہے، کیونکہ آنے والے وقت میں درخت ہی انسانی زندگی کے سب سے بڑے محافظ ثابت ہوں گے۔




