مہاراشٹر

لوہارا گرام پنچایت میں اجلاس ملتوی، انتظامیہ کو شرمندگی کا سامنا؛ 12 میں سے 10 اراکین غیر حاضر؛ بدعنوانی کیس اور ممکنہ کارروائی کے خدشات زیرِبحث

zakir ahmed shaikh kawish e jameel reporter balapurبالاپور: (ذاکر احمد) :تحصیل کی بڑی گرام پنچایتوں میں شمار ہونے والی لوہارا گرام پنچایت ایک بار پھر اپنے انتظامی معاملات کے سبب خبروں میں ہے۔ جمعہ کو منعقد ہونے والا ماہانہ اجلاس مطلوبہ تعداد میں اراکین کی عدم موجودگی کے باعث ملتوی کرنا پڑا، جس سے انتظامیہ کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
مارچ میں سابق سرپنچ اور منتخب اراکین کی مدت ختم ہونے کے بعد گرام پنچایت کا انتظامی نظام نافذ کیا گیا تھا۔ اسی دوران پندرہویں مالیاتی کمیشن کے فنڈ میں مبینہ طور پر 34 لاکھ 68 ہزار روپے کی بے ضابطگیوں کے معاملے میں سابق سرپنچ پروین مورے اور گرام پنچایت سیکریٹری بالاپورے کے خلاف اُرَل پولیس اسٹیشن میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔ اس معاملے کے بعد پوری گرام پنچایت مسلسل تنازعات کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مبینہ بدعنوانی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اُس وقت کے پولیس اسٹیشن انچارج پنکج کامبلے نے گرام پنچایت کے اراکین کے بیانات بھی قلمبند کیے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تین ماہ بعد بلائے گئے اس اجلاس کے حوالے سے بعض اراکین میں خوف اور بے چینی پائی جا رہی تھی۔ کئی اراکین کو یہ اندیشہ تھا کہ کہیں اجلاس میں ان کے خلاف کوئی کارروائی یا سازش نہ کی جائے، یا پھر انہیں بھی تحقیقات کے دائرے میں نہ لے لیا جائے۔ گاؤں میں یہ بات زیرِ بحث ہے کہ اسی خدشے کے باعث بیشتر اراکین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
دوسری جانب گزشتہ پانچ ماہ سے گاؤں شدید آبی بحران کا شکار ہے۔ نالیوں کی صفائی نہ ہونے سے گندگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ متعدد ترقیاتی کام تعطل کا شکار ہیں۔ گرام پنچایت ملازمین کو بروقت تنخواہیں نہ ملنے کے باعث انتظامی امور بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گرام پنچایت کے کھاتے میں لاکھوں روپے موجود ہونے کے باوجود ترقیاتی کاموں میں کوئی خاص پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔
آج کے اجلاس کے ایجنڈے کو دیکھ کر بعض اراکین نے بائیکاٹ کیا جبکہ بعض دیگر ممکنہ تفتیش یا کارروائی کے خوف سے غیر حاضر رہے۔ نتیجتاً صرف ایک رکن کی موجودگی میں اجلاس کا کورم مکمل نہ ہو سکا اور اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔
لوہارا گرام پنچایت کی تاریخ میں اراکین کی عدم موجودگی کے باعث ماہانہ اجلاس ملتوی ہونے کا یہ پہلا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
گرام پنچایت رکن فریدہ بی شیخ یونس نے کہا:
"کئی ماہ سے گرام پنچایت کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ گاؤں میں ترقیاتی کام نہیں ہو رہے اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ بعض اراکین نے اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔”
گرام پنچایت افسر ایس۔ ایس۔ بھرالے کے مطابق:
"کھاتوں کی تبدیلی اور دیگر انتظامی امور کے لیے اجلاس طلب کیا گیا تھا، تاہم صرف ایک رکن کی موجودگی کے باعث اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ اب یہ اجلاس ہفتہ کو صبح 11 بجے دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!