پون راجے قتل کیس: تمام ملزمان بری، اوم راجے نمبالکرکو بڑا سیاسی جھٹکا؛ اوم راجے نمبالکر کا یوٹرن؟ سیاسی فیصلہ دو دن میں، مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل

ممبئی: پون راجے قتل کیس میں تقریباً بیس سال بعد اہم فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے مقدمے کے تمام آٹھ ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد رکنِ پارلیمنٹ اوم راجے نمبالکر کو بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے۔ نمبالکر نے واضح کیا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت سے رجوع کریں گے۔
دوسری جانب اوم راجے نمبالکر کے ایک بیان نے ریاستی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغاوت اور مبینہ "آپریشن ٹائیگر” کے بارے میں وہ بعد میں اپنا حتمی فیصلہ ظاہر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے اپنے حلقۂ انتخاب کے عوام اور کارکنان سے مشاورت کریں گے، اس کے بعد ہی اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں اعلان کریں گے۔
سیاسی حلقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے یہ چرچا تھا کہ اوم رراجے نمبالکر سمیت چھ ارکانِ پارلیمنٹ شیوسینا (ٹھاکرے گروپ) سے الگ ہو سکتے ہیں۔ تاہم عدالتی فیصلے کے بعد اوم راجے کے تازہ بیان سے یہ تاثر ملا ہے کہ انہوں نے ابھی تک شندے گروپ میں شمولیت کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
اوم راجے نمبالکر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:”میں نے ابھی تک کوئی سیاسی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ اپنے حلقے کے عوام سے مشورہ کرنے کے بعد ہی اپنا موقف واضح کروں گا۔ دو دن کے اندر اپنے سیاسی فیصلے کا اعلان کروں گا۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ شیوسینا کی حالیہ میٹنگ میں کیوں شریک نہیں ہوئے، حالانکہ پارٹی کی جانب سے وہِپ جاری کیا گیا تھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کی پوری توجہ عدالتی فیصلے پر مرکوز تھی۔انہوں نے کہا:”میں کسی بھی سیاسی میٹنگ میں شریک نہیں ہوا۔ 16 تاریخ کو فیصلہ متوقع تھا، لیکن چار دن تاخیر سے آیا، اسی وجہ سے میں کہیں نہیں گیا۔”
اوم راجے نمبالکر کے اس بیان کے بعد سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مبینہ آپریشن ٹائیگر کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔ ساتھ ہی ان کے ساتھ جانے والے پانچ دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کے سیاسی مستقبل اور رکنیت کے حوالے سے بھی قیاس آرائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
ریاستی سیاست میں آنے والے دو دن انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ عمرراجے نمبالکر کے حتمی سیاسی فیصلے پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔




