مہاراشٹر

دینی اداروں کے سالانہ پروگراموں میں تمثیلی نظم ونعت کے نام پر حرکات پرعلماء کی تشویش!سنجیدہ شرعی رہنمائی کی اپیل!

بالاپور: (ذاکراحمد( :ضلع اکولہ کے معروف دینی ادارے مدرسہ بالاپور کے خادم مفتی قاسمی نے ایک نہایت اہم اور حساس مسئلہ کی طرف علماء کرام، ذمہ دارانِ مکاتب اور دینی اداروں کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک تفصیلی اور سنجیدہ مکتوب میں اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ موجودہ دور میں بعض مکاتب اور اسلامی نام رکھنے والے اسکولوں کے سالانہ پروگراموں میں “تمثیلی نظم” اور “تمثیلی نعت” کے نام پر بچوں خصوصاً بچیوں سے ایسی حرکات و سکنات کروائی جا رہی ہیں جو بظاہر دینی پیشکش معلوم ہوتی ہیں، مگر عملی طور پر وہ رقص سے مشابہ انداز اختیار کر لیتی ہیں۔
*مفتی قاسمی کے مطابق ان پروگراموں میں ہاتھوں کے مخصوص اشارے، جسمانی حرکات، گھومنا پھرنا، دائرہ بنا کر حرکتیں کرنا اور اسٹیج ڈانس سے ملتی جلتی ترتیبیں اختیار کی جاتی ہیں، جو دینی ماحول کے شایانِ شان نہیں۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ ان پروگراموں میں نابالغ اور بعض مقامات پر بالغ بچیاں بھی شامل ہوتی ہیں، جو شرعی اعتبار سے نہایت نازک اور حساس مسئلہ ہے۔ بعض جگہ بالغ بچیاں بڑے مجمع اور اکابرین کے سامنے بغیر پردے کے نعتیں اور تقاریر پیش کرتی ہیں، جو حیا اور شرعی حدود کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔*
انہوں نے واضح کیا کہ اسلام نے عبادات کے اندر بھی پردے، وقار اور حیا کا خاص اہتمام رکھا ہے۔ حج جیسے عظیم فریضہ میں بھی عورتوں کو دھیمی رفتار اور سکون کے ساتھ چلنے کی ہدایت دی گئی ہے، تو پھر دینی پروگراموں میں اس قدر بے احتیاطی کس طرح درست ہو سکتی ہے؟
*مفتی قاسمی نے اس رجحان کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسے “اسلامی ثقافت” کے نام پر فروغ دیا گیا تو آنے والی نسلوں کے سامنے دین کی صحیح تصویر پیش کرنا دشوار ہو جائے گا اور مستقبل میں ان غلطیوں کو روکنا مزید مشکل ہو جائے گا۔*
*انہوں نے جمیع علماء کرام اور ذمہ دارانِ دینی ادارہ جات سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس مسئلہ کا سنجیدگی سے شرعی جائزہ لیا جائے، مکاتب و اسکولوں کے ذمہ داران کو واضح رہنمائی فراہم کی جائے، بچیوں کی اسٹیج پر ایسی تمثیلی حرکات اور بے پردگی کے تعلق سے صریح ہدایات جاری کی جائیں، اور دینی تقریبات کے لیے باوقار، سادہ اور شرعی حدود کے اندر متبادل پروگرام ترتیب دیے جائیں۔*
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح حفاظت کی توفیق عطا فرمائے اور آنے والی نسلوں کو فتنوں سے محفوظ رکھے۔
یہ مسئلہ واقعی وقت کی اہم ضرورت ہے، جس پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو معاشرے میں دینی اقدار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!