مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے زیر اہتمام شاندار کامیاب مشاعرہ کا انعقاد ; اردو کے فروغ کے عزم کا اعادہ کے ساتھ شہریان اورنگ آباد کی باذوق سامعین کا سید حسین اختر نے ادا کیا شکریہ

اورنگ آباد: (کاوشِ جمیل نیوز) : مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی، محکمہ اقلیتی ترقیات، منترالیہ ممبئی کے زیرِ اہتمام اردو ادب کے فروغ اور شعری روایت کی آبیاری کے مقصد سے ایک عظیم الشان کل ہند اردو مشاعرہ تاریخی حج ہاؤس اورنگ آباد میں نہایت ہی وقار، ادبی جاہ و جلال اور شاندار ماحول میں منعقد ہوا۔ اس یادگار ادبی محفل کو نائب وزیراعلیٰ حکومتِ مہاراشٹر محترمہ سنیتا پوار کی سرپرستی حاصل رہی، جس سے اس مشاعرے کی اہمیت اور وقعت میں مزید اضافہ ہو گیا۔
مشاعرے کی صدارت معروف کہنہ مشق اور صاحبِ طرز شاعر خان شمیم خان نے کی، جنہوں نے اپنے منفرد لب و لہجے اور فکری گہرائی سے بھرپور شاہکار نظموں کے ذریعے سامعین کو مسحور کر دیا۔ جب کہ نظامت کے فرائض مشہور و منفرد اسلوب کے شاعر یوسف دیوان (ممبئی) نے انجام دیے، جن کی پُراثر، بھرائی ہوئی اور دل نشیں آواز سامعین کے دلوں پر نقش چھوڑ گئی اور محفل کو آخر تک باندھے رکھا۔
مشاعرے میں جن ممتاز شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کر کے داد و تحسین سمیٹی، اُن میں ڈاکٹر اسلم مرزا، ڈاکٹر سلیم محی الدین، ڈاکٹر یوسف صابر، شفیع احمد شفیع، ڈاکٹر غزالہ پروین، امتیاز گورکھپوری، ڈاکٹر آصف اقبال، یوسف رانا، ذکی الدین، واثق ناتھا پوری اور وسیم راہی شامل تھے۔ شعرائے کرام نے فصاحت و بلاغت، فکری ندرت اور جذباتی تاثیر سے لبریز کلام سنا کر سامعین کو بار بار داد دینے پر مجبور کر دیا۔ بالخصوص اورنگ آباد کے شعرا نے اپنے جداگانہ اسلوب اور مقامی تہذیبی رنگ میں ڈوبے کلام سے مشاعرے کو ایک خاص انفرادیت عطا کی۔
اس سے قبل مہمانانِ خصوصی اور شعرائے کرام کا پُرتپاک استقبال اردو ساہتیہ اکیڈمی کے ایگزیکٹو آفیسر شعیب ہاشمی اور کارگزار صدر سید حسین اختر نے کیا۔ افتتاحی تقریر میں سید حسین اختر نے کہا کہ اورنگ آباد کی سرزمین ہمیشہ سے اردو ادب کے لیے زرخیز رہی ہے اور یہاں کے اہلِ قلم نے ہر دور میں اپنی محنت، خلوص اور تخلیقی صلاحیتوں سے اردو ادب کو نئی جہتیں عطا کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے لکھنے پڑھنے والوں کی حوصلہ افزائی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اردو زبان و ادب کی باگ دوڑ مضبوط ہاتھوں میں رہے۔
اورنگ آباد کی مشہور ادبی تنظیم وارثانِ حرف و قلم کے روحِ رواں خالد سیف الدین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی، سید حسین اختر کی قیادت میں مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اورنگ آباد کے اہلِ قلم کو نظر انداز کرنا اردو ادب کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگا، کیونکہ یہ شہر ہمیشہ اردو کا مضبوط قلعہ رہا ہے۔
ایگزیکٹو آفیسر شعیب ہاشمی نے مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے اس کے اغراض و مقاصد اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔ اختتام پر سید حسین اختر نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہر اور اطراف سے تشریف لانے والے تمام باذوق سامعین کے تہِ دل سے شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنی شرکت سے اس مشاعرے کو کامیاب بنایا اور اردو ادب کی ترویج میں عملی تعاون پیش کیا۔
مشاعرے میں مہمانانِ خصوصی کے طور پر قاضی نوید وصیل صاحب، الیاس کرمانی، نایاب انصاری،
محسن پہلوان, عبد العظیم راہی، شیخ خورشید بیڑ، قاضی رضوان بیڑ، فرید خان اردو کارواں ممبئی،طلحہ فاروقی بیڑ،حمید خان، سید نیر، عبد الوحید ، ایڈوکیٹ حسیب اختر ، انجینئر امام اختر، شیخ ابرار عبد الواحد پربھنی ،محمد حسن نائیک ممبئی، عبد الجبار ممبئی
فواد صدیقی، قاضی جاوید، سید فاروق احمد، خالد فاروقی، احمد اورنگ آبادی، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی شعبۂ اردو کی صدر کریتی مالنی جاوڑے، رضوانہ میڈم، شیخ اصغر اور اظہر کاتب شریک رہے۔
کثیر تعداد میں باذوق سامعین کی موجودگی، بھرپور داد و تحسین اور ادبی جوش و خروش کے ساتھ یہ یادگار مشاعرہ اپنی کامیابیوں کے نقوش چھوڑتا ہوا اختتام پذیر ہوا۔


