مہاراشٹرحکومت کا بڑا فیصلہ؛ اب غیرقانونی بائیک ٹیکسی نہیں چلے گی؛ اولا، اوبر، ریپڈو سمیت بائیک ٹیکسی سروس پرحکومت کی سخت نظر؛ مہاراشٹرمیں بائیک ٹیکسی چلانے کے لیے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ لازمی قرار؛ ریاست کے نوجوانوںکو ملے گا روزگار

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :ممبئی اورمیٹروپولیٹن ریجن میں غیر قانونی بائیک ٹیکسی سروس ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جس کے باعث حکومت کو ایک روپیہ بھی ریونیو حاصل نہیں ہو رہا تھا۔ ریاستی وزیرِ ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نے اسمبلی میں اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اب بائیک ٹیکسی سروس کو باقاعدہ قوانین کے دائرے میں لایا جائے گا تاکہ حکومت کو آمدنی حاصل ہو اورریاست کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں۔
اسمبلی میں رکنِ اسمبلی دلیپ لانڈے کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں وزیرِٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نے بتایا کہ ریاستی کابینہ نے ابتدا میں صرف الیکٹرک (EV) بائیک ٹیکسی کو اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا، کیونکہ اگر بڑی تعداد میں پیٹرول سے چلنے والی بائیک ٹیکسیاں سڑکوں پرآئیں تو فضائی آلودگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اولا، اوبر اور ریپڈو جیسی کمپنیوں کو بائیک ٹیکسی چلانے کے لیے عارضی اجازت نامہ دیا گیا تھا، تاہم ان میں سے صرف ایک کمپنی نے باضابطہ اجازت حاصل کی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بعض کمپنیوں نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیٹرول سے چلنے والی بائیک ٹیکسیاں سڑکوں پر اتار دی تھیں، جس کے بعد آر ٹی او نے ان کے خلاف کارروائی کی۔
وزیرِ ٹرانسپورٹ نے مزید کہا کہ اس وقت ممبئی اور میٹروپولیٹن علاقے میں تقریباً چار سے ساڑھے چار لاکھ غیر قانونی بائیک ٹیکسیاں چل رہی ہیں، جن سے حکومت کو کوئی مالی فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ اس مسئلے پر وزیرِ اعلیٰ کی صدارت میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
نئے ضوابط کے مطابق اگر کوئی شخص بائیک ٹیکسی چلانا چاہے گا تو اسے روزانہ پانچ روپے حکومت کو ادا کرنے ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہر سواری (رائیڈ) کی آمدنی میں سے دو فیصد رقم کاٹی جائے گی، جو حکومت کی فلاحی اسکیموں پر خرچ کی جائے گی۔
پرتاپ سرنائیک نے کہا کہ غیر قانونی طور پر بائیک ٹیکسی چلانے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ آئندہ صرف انہی افراد کو بائیک ٹیکسی چلانے کی اجازت دی جائے گی جن کے پاس مہاراشٹر کا ڈومیسائل (رہائشی) سرٹیفکیٹ ہوگا۔ اس اقدام سے غیر قانونی بائیک ٹیکسی سروس پر قابو پایا جا سکے گا اور حکومت کو بھی ریونیو حاصل ہوگا۔
اس دوران شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے رکنِ اسمبلی سنیل پربھو نے آن لائن فوڈ ڈیلیوری کرنے والے بائیک سواروں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تیز اور لاپرواہ ڈرائیونگ کے باعث ٹریفک جام اورعوامی سلامتی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس پر وزیرِ ٹرانسپورٹ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ایسے ڈلیوری رائیڈرز کے خلاف بھی آر ٹی او کے ذریعے کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ اس وقت ریاست میں اولا، اوبر، ریپڈو اور دیگر موبائل ایپس کے ذریعے حکومت کی باضابطہ اجازت اور محکمۂ ٹرانسپورٹ کے قواعد پر عمل کیے بغیر بائیک ٹیکسی سروس چلائی جا رہی ہے۔ ممبئی کے چاندیولی حلقے کے رکنِ اسمبلی دلیپ لانڈے نے اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی غیر مجاز بائیک ٹیکسی سروس سے مسافروں، خصوصاً خواتین، طلبہ اور کم عمر بچوں کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔




