ایم آئی ایم ٹکٹ معاملہ:سید امتیازجلیل کی دو ٹوک صفائی، الزامات کو بے بنیاد قراردیا؛ ناراض کارکنان کو بات چیت کی پیشکش؛ اختلافات ختم کرنے کی اپیل

اورنگ آباد: (کاوشِ جمیل نیوز) :مہانگر پالیکا انتخاب 2026 سے قبل آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) میں ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر پیدا ہونے والے تنازع کے درمیان پارٹی کے ریاستی صدر اور سابق رکنِ پارلیمان سید امتیاز جلیل نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنی صفائی پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹکٹوں کی تقسیم کسی ایک فرد کا ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ پارٹی کی اجتماعی حکمتِ عملی اور تنظیمی مشاورت کا نتیجہ ہوتی ہے۔
سید امتیاز جلیل نے کہا کہ AIMIM میں امیدواروں کے انتخاب کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار اپنایا جاتا ہے، جس میں وارڈ سطح پر کارکردگی، عوامی قبولیت اور انتخابی امکانات جیسے پہلوؤں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں کسی بھی قسم کی خرید و فروخت یا غیر شفافیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے ناراض کارکنان کے حوالے سے کہا کہ پارٹی میں اختلافِ رائے کوئی نئی بات نہیں اور ہر بڑے انتخاب سے قبل ایسے مسائل سامنے آتے رہے ہیں، تاہم AIMIM ایک منظم اور جمہوری جماعت ہے جہاں ہر کارکن کو اپنی بات رکھنے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد جذباتی ہو کر الزامات لگا رہے ہیں، لیکن پارٹی قیادت تمام معاملات کو تحمل اور سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
سید امتیاز جلیل نے یہ بھی کہا کہ جو کارکن یا امیدوار ناراض ہیں، پارٹی دروازے ان کے لیے بند نہیں ہیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جلد ہی صورتحال بہتر ہو جائے گی اور تمام کارکنان پارٹی مفاد میں متحد ہو کر انتخابی میدان میں اتریں گے۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پرانے اور وفادار کارکنان کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی نے ہمیشہ تنظیم کے لیے کام کرنے والوں کو ترجیح دی ہے، لیکن انتخابی حکمتِ عملی کے تحت بعض اوقات مشکل فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ AIMIM میں ٹکٹوں کے معاملے کو لے کر شدید اختلافات، احتجاج اور آزاد امیدواروں کے میدان میں آنے کے بعد سید امتیاز جلیل کی یہ صفائی سیاسی طور پر نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم اس کے باوجود پارٹی کے ایک طبقے میں بے چینی برقرار ہے اور آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پارٹی قیادت ان اختلافات کو کس حد تک قابو میں لا پاتی ہے۔



