مہاراشٹر

مہانگر پالیکا انتخاب 2026 سے قبل اورنگ آباد میں AIMIM اندرونی بحران کا شکار، ٹکٹ تنازع نے پارٹی کو ہلا کر رکھ دیا؛ ریاستی صدرسید امتیازجلیل پرسنگین الزامات

اورنگ آباد: (کاوشِ جمیل نیوز) : مہاراشٹر کے اہم شہری انتخابات میں شمار ہونے والے مہانگر پالیکا اورنگ آباد 2026 کے انتخاب سے قبل آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے اندر ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر شدید تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ پارٹی کے مختلف وارڈوں میں امیدواروں کے ناموں پر اعتراضات، کارکنان کی ناراضگی اور قیادت پر دباؤ کی خبریں سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہیں، جس سے شہر کی سیاست میں غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔
پارٹی کے ریاستی صدراورسابق رکنِ پارلیمان امتیاز جلیل پر ٹکٹوں کی مبینہ فروخت جیسے سنگین الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ یہ الزامات وہ افراد عائد کر رہے ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ابتدا ہی سے اورنگ آباد میں AIMIM سے وابستہ رہے ہیں اور برسوں سے پارٹی کی تنظیمی اور عوامی سرگرمیوں میں سرگرم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ ناراض کارکنان کا کہنا ہے کہ پارٹی میں شروع سے کام کرنے والوں کو نظرانداز کر کے باہر سے آئے افراد کو ٹکٹ دیے جا رہے ہیں، جس سے تنظیمی ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق انہی فیصلوں کے خلاف پارٹی کے پرانے اور سرگرم کارکنان نے کھل کر محاذ کھول دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ عارف حسینی اور ناصر صدیقی، ظفر بلڈر سمیت سیکڑوں کارکنان نے اس معاملے پر متحد ہو کر امتیاز جلیل کے خلاف احتجاجی مؤقف اختیار کر رکھا ہے اور انہیں ریاستی صدر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ کارکنان کا کہنا ہے کہ پارٹی میں جمہوری روایت کمزور ہو رہی ہے اور فیصلے چند افراد تک محدود ہو گئے ہیں۔
اس تنازع کے ایک اور اہم پہلو کے طور پر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ AIMIM کی جانب سے جن افراد کو ٹکٹ نہیں دیا گیا، اُن میں سے کئی نے آزاد امیدوار کے طور پر اپنے کاغذاتِ نامزدگی داخل کر دیے ہیں۔ اس پیش رفت نے پارٹی قیادت کے سامنے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی اس صورتحال کو کس طرح سنبھالتی ہے اور آیا ناراض امیدواروں اور کارکنان کو منانے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے یا نہیں۔
پارٹی دفاتر اور مختلف وارڈوں میں اس مسئلے پر مسلسل میٹنگز اور غیر رسمی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر بھی بے چینی صاف نظر آ رہی ہے۔ اورنگ آباد میں AIMIM کے کارکنان کے درمیان اس معاملے کو لے کر تشویش پائی جا رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ اختلافات برقرار رہے تو پارٹی کی انتخابی حکمتِ عملی متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب مخالف سیاسی جماعتیں AIMIM کے اس اندرونی بحران کو اپنے لیے موقع کے طور پر دیکھ رہی ہیں اور کھل کر تنقید کر رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹکٹوں پر شدید تنازع، آزاد امیدواروں کا سامنے آنا اور قیادت پر الزامات ایسی صورتحال پیدا کر رہے ہیں جس کا انتخابی نقصان پارٹی کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس پورے معاملے پر اب تک امتیاز جلیل کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ قیادت کی خاموشی نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ طے سمجھا جا رہا ہے کہ اس نوعیت کے شدید تنازع کی وجہ سے AIMIM کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، اور آنے والے دنوں میں پارٹی کے فیصلے اور حکمتِ عملی ہی یہ طے کریں گے کہ یہ بحران کس رخ پر جاتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!