مہاراشٹر

بی ایم سی انتخابات میں مسلم رائے دہندگان کی سیاسی پختگی ؛مسلمانوں نے نہ صرف اپنی نمائندگی میں اضافہ کیا بلکہ ثابت کیا کہ وہ اب جذباتی نعروں کے بجائے زمینی حقائق سے واقف ہیں

ممبئی: 17 جنوری( یواین آئی) :ممبئی کے حالیہ بی ایم سی انتخابات محض بلدیاتی سیاست کا ایک مرحلہ نہیں بلکہ شہر کی سب سے بڑی اقلیتی آبادی، یعنی مسلمانوں کے سیاسی رویّے میں رونما ہونے والی ایک اہم تبدیلی کا مظہر بھی ہیں۔ ان انتخابات میں مسلمانوں نے نہ صرف اپنی نمائندگی میں اضافہ کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ وہ اب جذباتی نعروں کے بجائے زمینی حقائق، شہری مسائل اور عملی سیاست کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
2017 کے بی ایم سی انتخابات میں جہاں 27 مسلم کارپوریٹر منتخب ہوئے تھے، وہیں اس بار یہ تعداد بڑھ کر 31 ہو گئی ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی محسوس ہو سکتا ہے، مگر ایسے سیاسی ماحول میں جہاں اقلیتوں کی سیاسی شراکت مسلسل دباؤ، حاشیہ بندی اور غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار رہی ہو، یہ پیش رفت خاصی معنی خیز ہے۔ مزید یہ کہ متعدد وارڈوں میں ایک سے زائد مسلم امیدواروں کی موجودگی کے باوجود بڑے پیمانے پر ووٹوں کی تقسیم نہیں ہوئی، جو مسلم ووٹر کی بڑھتی ہوئی سیاسی شعور اور اجتماعی فیصلے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
انتخابی نتائج سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نے اب بھی کانگریس کو اپنا فطری سیاسی پلیٹ فارم سمجھا۔ 31 میں سے 14 مسلم کارپوریٹر کانگریس سے منتخب ہوئے، جو اس بات کی علامت ہے کہ پارٹی آج بھی اقلیتی ووٹ بینک میں اپنی جڑیں رکھتی ہے۔ کانگریس کے ایم ایل اے امین پٹیل کا یہ کہنا کہ یہ نتائج پارٹی کی سیاسی واپسی کا اعلان ہیں، مکمل طور پر بے بنیاد نہیں لگتا۔ تاہم، کانگریس کے لیے یہ کامیابی کسی حتمی اطمینان کا سبب نہیں بلکہ ایک سنجیدہ موقع ہے کہ وہ شہری سطح پر مسلمانوں کے بنیادی مسائل—جیسے رہائش، صفائی، صحت اور انفراسٹرکچر—کو عملی طور پر حل کرے۔
کانگریسی قیادت کا یہ دعویٰ کہ جیتنے والوں میں سے تقریباً 50 فیصد مسلمان ہیں اور کمیونٹی نے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا ہے، قابلِ غور ضرور ہے۔ ممبئی کانگریس کے جنرل سکریٹری آصف فاروقی بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ نتائج مسلمانوں اور کانگریس دونوں کے لیے مثبت ہیں۔ تاہم، اس انتخاب میں مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے مضبوط مظاہرہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اے آئی ایم آئی ایم نے سات سیٹیں جیت کر خاص طور پر گوونڈی جیسے علاقوں میں اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ تاریخی طور پر ممبئی کے مسلم ووٹروں کا ایک حصہ ایسی جماعتوں کی طرف مائل رہا ہے جن کی قیادت واضح طور پر مسلم شناخت رکھتی ہو۔ 1970 کی دہائی میں وندے ماترم تنازع کے دوران مسلم لیگ نے قابلِ ذکر تعداد میں نشستیں حاصل کی تھیں۔ اس کے بعد 1990 کی دہائی میں بابری مسجد کی شہادت اور فرقہ وارانہ فسادات کے پس منظر میں سماج وادی پارٹی نے ممبئی میں زبردست عروج دیکھا اور تقریباً 30 کارپوریٹ سیٹیں جیتیں، جبکہ نواب ملک اور دیگر رہنما اسمبلی و قانون ساز کونسل تک پہنچے۔
مگر اس بار سماج وادی پارٹی کے لیے نتائج خاصے مایوس کن ثابت ہوئے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے جس مسلم ووٹ بینک کو پارٹی اپنی سیاسی طاقت سمجھتی رہی، اس میں واضح دراڑ دکھائی دی ہے۔ گوونڈی جیسے مضبوط گڑھ میں شکست اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم ووٹر اب کسی بھی جماعت کو “محفوظ مفروضہ” نہیں سمجھتا۔ صرف ماضی کی وابستگی، علامتی نمائندگی یا جذباتی نعروں سے اب ووٹ حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
شیو سینا (یو بی ٹی) کی کارکردگی بھی اس انتخاب میں قابلِ غور رہی۔ محدود تعداد میں مسلم امیدوار میدان میں اتارنے کے باوجود تین کی کامیابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر یو بی ٹی سنجیدگی کے ساتھ اقلیتی نمائندگی کو وسعت دے تو مستقبل میں اسے اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار مسلمانوں نے کھل کر ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا کو ووٹ دیا، اور اگر مزید ٹکٹ دیے جاتے تو نتائج اور بہتر ہو سکتے تھے۔
ان تمام پہلوؤں کے درمیان سب سے اہم پیغام خود مسلم ووٹر کی جانب سے آیا ہے۔ یہ نتائج اس سوچ کو مسترد کرتے ہیں کہ مسلمان محض مراعات، نعروں یا شناختی سیاست سے مطمئن ہو جائیں گے۔ اس بار ووٹ خراب انفراسٹرکچر، بنیادی سہولتوں کی کمی اور غیر صحت مند شہری حالات کے خلاف ایک خاموش مگر واضح احتجاج بھی تھا۔مجموعی طور پر بی ایم سی انتخابات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ممبئی کا مسلم ووٹر ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے—ایک ایسا مرحلہ جہاں شناخت کے ساتھ ساتھ کارکردگی، ترجیحات اور عملی حل فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی تبدیلی ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک مثبت اور امید افزا اشارہ ہے، البتہ سماج وادی پارٹی کے زوال اور اے آئی ایم آئی ایم کے ابھار نے کئی نئے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں، جن پر سنجیدہ غور و فکر ناگزیر ہے۔
یواین آئی/ اے اے اے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!