امراوتی بی جے پی میں بغاوت! 22 ہارے ہوئے امیدوارنونیت رانا کے خلاف میدان میں، وزیراعلیٰ فڈنویس سے نونیت رانا کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ

امراوتی: (کاوش جمیل نیوز) :امراوتی میونسپل کارپوریشن کے انتخابی نتائج نے مہاراشٹر کی سیاست میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔ پچھلے انتخاب میں 45 نشستیں جیتنے والی بی جے پی کو اس بار صرف 25 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے۔ اس کراری شکست کا سارا الزام اب براہِ راست نونیت رانا پر عائد کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی کے 22 ہارے ہوئے امیدواروں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو خط لکھ کر نونیت رانا کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد امراوتی بی جے پی میں اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
ہارے ہوئے امیدواروں کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو بھیجے گئے خط میں انتہائی سنسنی خیز الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے:
“ہم بی جے پی کے وفادار کارکن تھے، لیکن ہماری شکست مخالفین کی وجہ سے نہیں بلکہ پارٹی کی ہی رہنما نونیت رانا کی وجہ سے ہوئی۔”
امیدواروں کا دعویٰ ہے کہ انتخابی مہم کے آخری پانچ دنوں میں نونیت رانا نے بی جے پی کے سرکاری امیدواروں کو “ڈمی” قرار دے کر اپنی تنظیم ‘یوا سوابھیمان’ کے امیدواروں کی کھل کر حمایت اور تشہیر کی۔
خط میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ نونیت رانا نے بی جے پی کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر کے پارٹی کے پینل کو شدید نقصان پہنچایا۔ شہر کے صدر ڈاکٹر نتین دھانڈے کی مدد سے تنظیمی سطح پر رد و بدل کر کے سرکاری امیدواروں کو کمزور کیا گیا، ایسا بھی ان امیدواروں کا کہنا ہے۔
دوسری جانب نونیت رانا نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “عوام نے صحیح امیدواروں کو منتخب کیا ہے۔ اگر بی جے پی میں ٹکٹوں کی تقسیم میں گڑبڑ نہ ہوتی تو 50 سے زیادہ نشستیں جیتی جا سکتی تھیں۔” تنقید کرنے والوں کو کھلے عام اسٹیج پر آ کر بات کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ ‘یوا سوابھیمان’ نے الگ انتخاب لڑا، لیکن بی جے پی کے ساتھ ان کی دوستی برقرار ہے۔
اب اس اندرونی تنازع کے بعد سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نونیت رانا کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے، اور آیا یہ معاملہ پارٹی کے اندر مزید دراڑیں پیدا کرے گا یا نہیں۔



