مضامین

ریلز کی لت اور دماغ: کیا مسلسل اسکرولنگ کم کر رہی ہے ہماری توجہ؟ شارٹ ویڈیوز کا لمبا اثر؟ توجہ، یادداشت اور خود پر قابو پانے کی صلاحیت پر سوال؛ ’ڈیجیٹل ڈیمینشیا‘: حقیقت، خدشات اور سائنس کیا کہتی ہے؟ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

کاوش جمیل کی اسپیشل رپورٹ
’’صرف دو منٹ ریلز دیکھتا ہوں…‘‘ یہ سوچ کر موبائل ہاتھ میں لیا اور پھر اگلے 20 سے 30 منٹ کب گزر گئے، پتہ ہی نہیں چلا۔ یہ تجربہ اب بہت سے لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہماری توجہ، یادداشت اور سوچنے کی صلاحیتوں پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے، اس حوالے سے نیورو سائنس کے نقطۂ نظر سے سمجھنا اہم ہو گیا ہے۔
ہر چند سیکنڈ بعد ایک نئی تصویر، نئی آواز، نئی معلومات اور یہ تجسس کہ اگلا کیا آنے والا ہے۔ مختصر ویڈیوز یعنی Short-form Videos تفریح کا ایک انتہائی تیز اور آسان ذریعہ بن چکے ہیں۔ تاہم مسلسل بدلنے والی ان محرکات کا ہماری توجہ، خود پر قابو، یادداشت اور سوچنے کے انداز سے کیا تعلق ہے؟ یہ سوال اب نیورو سائنس میں بھی زیرِ مطالعہ ہے۔
’ڈیجیٹل ڈیمینشیا‘ کیا ہے؟
’Digital Dementia‘ کی اصطلاح کو جرمن نیورو سائیکاٹرسٹ مَینفریڈ اسپٹزر (Manfred Spitzer) نے 2012 میں مقبول بنایا۔ اس اصطلاح کے پیچھے بنیادی خیال یہ تھا کہ ٹیکنالوجی، خصوصاً اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ پر حد سے زیادہ انحصار، ہماری کچھ علمی یا ذہنی صلاحیتوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ 2024 میں Cureus میں شائع ہونے والے Zeeshan Ali، Jayaprakash Janarthanan اور Prasanna Mohan کے تحقیقی جائزے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ضرورت سے زیادہ استعمال اور توجہ، یادداشت، ایگزیکٹو فنکشنز اور خود پر قابو رکھنے جیسی ذہنی صلاحیتوں کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
لیکن یہاں ایک اہم سائنسی وضاحت ضروری ہے۔’Digital Dementia‘ الزائمر یا ڈیمینشیا کی دوسری اقسام کی طرح کوئی تسلیم شدہ طبی تشخیص نہیں ہے۔ اس لیے صرف موبائل استعمال کرنے والے کسی شخص کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ اسے ’ڈیجیٹل ڈیمینشیا‘ ہو گیا ہے۔ یہ اصطلاح عموماً ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے ساتھ نظر آنے والی بعض ممکنہ علمی یا ذہنی تبدیلیوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
ریلز کی عادت اور ڈوپامین کا تعلق
Short-form Videos کی ایک اہم خصوصیت ان کی رفتار، نیا پن اور غیر یقینی کیفیت ہے۔ ایک ویڈیو ختم ہونے سے پہلے ہی اگلی ویڈیو دستیاب ہوتی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اگلی ویڈیو کتنی دلچسپ ہوگی۔اس طرح ذہن میں بار بار یہ توقع پیدا ہوتی ہے کہ ’’اب آگے کیا ملنے والا ہے؟‘‘ یہاں ڈوپامین (Dopamine) اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈوپامین کو صرف ’’خوشی کا کیمیکل‘‘ سمجھنا درست نہیں۔ یہ Motivation، Reward Anticipation، Learning اور Reinforcement جیسے کئی ذہنی عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
Short-form Videos دیکھنے کے دوران Reward-related Brain System کے فعال ہونے کے شواہد نیورو امیجنگ تحقیق میں سامنے آئے ہیں۔ خاص طور پر ایسے ویڈیوز جن میں کسی فرد کی ذاتی دلچسپی ہو یا جو اس کی پسند کے مطابق تجویز کیے جائیں، ان سے متعلق Reward Processing System میں سرگرمی دیکھی گئی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا سائنسی طور پر درست نہیں کہ:’’ریلز دیکھنے سے ڈوپامین کی سطح ہمیشہ بڑھتی رہتی ہے۔‘‘زیادہ درست وضاحت یہ ہے کہ نئے اور ممکنہ انعام کی توقع بار بار اسی رویے کو دہرانے کی عادت کو مضبوط کر سکتی ہے۔
کیا ریلز توجہ کم کر دیتی ہیں؟
ہر چند سیکنڈ بعد بدلنے والے مواد کی وجہ سے ہماری توجہ مسلسل ایک محرک سے دوسرے محرک کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریلز دیکھنے والے ہر شخص کی Attention Span لازماً کم ہو جاتی ہے۔ تاہم ضرورت سے زیادہ Short-form Video استعمال اور Attention Control کے درمیان تعلق پر تحقیق جاری ہے۔
2024 میں Frontiers in Human Neuroscience میں شائع ہونے والی ایک EEG تحقیق میں 48 نوجوانوں کا مطالعہ کیا گیا۔ اس تحقیق میں Short-video دیکھنے کا زیادہ رجحان رکھنے والے افراد میں Attention Task کے دوران Prefrontal Executive Control سے متعلق بعض EEG پیمائشوں میں کمی اور Self-control کے ساتھ منفی تعلق دیکھا گیا۔
لیکن یہاں بھی ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے:
اس تحقیق سے Cause and Effect یعنی سبب اور نتیجے کا قطعی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔یعنی صرف اس تحقیق کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ Short Videos ہی ان تبدیلیوں کی وجہ ہیں۔ اس موضوع پر مزید اور بڑے پیمانے کی تحقیق کی ضرورت ہے۔Short-form Videos کے اثرات پر موجود مطالعات میں نمونہ، استعمال کی پیمائش اور تحقیق کے طریقۂ کار مختلف ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ:’’ریلز دماغ خراب کر دیتی ہیں‘‘ایک سادہ اور عمومی نتیجہ ہوگا، جسے موجودہ شواہد کی بنیاد پر حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔

مسلسل نوٹیفکیشن اور ذہنی دباؤ
مسلسل Notifications، Messages، Social Media Updates اور تیزی سے بدلتے ہوئے مواد کی وجہ سے دماغ کو بار بار مختلف معلومات کے درمیان منتقل ہونا پڑتا ہے۔اسے Cognitive Load یا ذہنی معلوماتی بوجھ کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔خاص طور پر پڑھائی، لکھنے یا کسی پیچیدہ کام کے دوران مسلسل رکاوٹیں توجہ اور Working Memory کو متاثر کر سکتی ہیں۔مسئلہ صرف ریلز تک محدود نہیں ہے۔کام کرتے ہوئے بار بار WhatsApp چیک کرنا، Notifications دیکھنا، Email کھولنا اور پھر دوبارہ اپنے کام کی طرف لوٹنا بھی Attention Switching کی مثالیں ہیں۔
موبائل، نیند اور یادداشت
ڈیجیٹل استعمال کے اثرات کو سمجھتے ہوئے نیند کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔رات دیر تک موبائل استعمال کرنے سے سونے کا وقت آگے بڑھ سکتا ہے اور نیند کے معیار پر اثر پڑ سکتا ہے۔2024 کے National Sleep Foundation Consensus Statement میں Screen Use اور Sleep سے متعلق دستیاب شواہد کا جائزہ لیا گیا۔اگر نیند ناکافی یا بار بار متاثر ہو رہی ہو تو اگلے دن توجہ، یادداشت، فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور جذباتی کنٹرول پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اس لیے یہ کہنا کہ:’’فون کی وجہ سے میری یادداشت کمزور ہو گئی‘‘کے بجائے زیادہ سائنسی سوال یہ ہے کہ:کیا فون کے استعمال کی وجہ سے نیند متاثر ہوئی اور اس کے نتیجے میں ذہنی کارکردگی پر اثر پڑا؟بچوں اور نوجوانوں پر زیادہ توجہ کیوں ضروری ہے؟
بچپن اور نوجوانی میں دماغ کی نشوونما اور Neuroplasticity بڑے پیمانے پر جاری رہتی ہے۔
اس عمر میں تعلیم، کھیل، جسمانی سرگرمی، کتاب پڑھنا، براہِ راست گفتگو اور مناسب نیند کا کوئی متبادل نہیں۔
2024 میں Kindergarten عمر کے بچوں پر کیے گئے ایک Systematic Review میں Screen Overuse اور نیند میں خلل کے درمیان تعلق کے ساتھ ساتھ بعض Behavioral اور Cognitive مسائل سے بھی تعلق کی نشاندہی کی گئی۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچوں کے لیے اسکرین کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تعلیم، رابطے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ:
اسکرین کا استعمال کس طرح، کتنی دیر اور کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے؟
ریلز سے بچنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟
ریلز دیکھنا مکمل طور پر بند کرنا ضروری نہیں۔ تاہم اس کے لیے ایک مقررہ وقت طے کرنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
کچھ آسان عادات اپنائی جا سکتی ہیں:
غیر ضروری Notifications بند کریں۔
پڑھائی یا کام کے دوران موبائل کو نظروں سے دور رکھیں۔
کھانا کھاتے وقت فون ایک طرف رکھیں۔
سونے سے پہلے اسکرین سے مناسب فاصلہ رکھیں۔
بے مقصد Scrolling کے لیے وقت مقرر کریں۔
ہر خالی لمحے میں فوراً موبائل نکالنے کی عادت کم کریں۔
سفر، لفٹ، قطار یا دو کاموں کے درمیان چند منٹ کبھی بغیر کسی نئے Digital Stimulus کے بھی گزاریں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے خالی وقت کو ہر بار موبائل سے بھرنے کی عادت پر نظر رکھی جائے۔
اصل مسئلہ ’اسکرین‘ نہیں، اس پر ہمارا کنٹرول ہے
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہماری دشمن نہیں ہے اور نہ ہی ریلز دماغ کی تباہی کا مترادف ہیں۔
لیکن مسلسل اور تیز رفتار محرکات کی عادت ہماری توجہ کو کس سمت لے جا رہی ہے اور ہم کتنی دیر تک اپنی توجہ ایک کام پر برقرار رکھ سکتے ہیں، یہ سوال ضرور اہم ہے۔
ڈیجیٹل دور میں ضرورت صرف ’No Screen‘ کی نہیں، بلکہ ’Screen Control‘ کی ہے۔
آخر میں خود سے ایک سوال ضرور پوچھیں:
’’موبائل میرے کنٹرول میں ہے، یا میرا کنٹرول موبائل کے ہاتھ میں ہے؟‘‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!