اولیائے اللہ کون ہوتے ہیں؟ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی حیات و تعلیمات پر ایمان افروز خطاب؛ بزرگوں کا احترام، ان کی دعاؤں کی قدر اور اولیائے کرام کی تعلیمات پر عمل ہی دین کی حقیقی روح ہے …. مولانا محمد اسماعیل اشاعتی

بالاپور، نمائندہ:
جمعہ کے پُرنور موقع پر مسجد میں منعقدہ خصوصی خطاب کے دوران مولانا محمد اسماعیل اشاعتی نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی حیاتِ مبارکہ، دینی خدمات، تعلیمات اور اولیائے اللہ کے مقام و مرتبے پر نہایت پُراثر انداز میں روشنی ڈالی۔ خطاب کے دوران نمازیوں اور حاضرین کو بزرگانِ دین کی سیرت سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی تلقین کی گئی۔
مولانا محمد اسماعیل اشاعتی نے کہا کہ اولیائے اللہ وہ نیک بندے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، تقویٰ، اخلاص اور سنتِ رسول ﷺ کی پیروی کو اپنی زندگی کا مقصد بناتے ہیں۔ ان کی زندگی صرف عبادت تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ انسانیت کی اصلاح، بھلائی، خدمت اور معاشرے میں نیکی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی حیاتِ مبارکہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپؒ علم، تقویٰ، اخلاص، صبر اور انسانیت کی خدمت کے عظیم پیکر تھے۔ آپؒ نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی تعلیمات عام کرنے، لوگوں کو گناہوں سے بچنے، حق و صداقت اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی دعوت میں صرف کی۔
خطاب میں کہا گیا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی تعلیمات کا بنیادی پیغام توبہ، تقویٰ، اخلاص، حلال رزق، والدین کا احترام، حقوق العباد کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ ہے۔ آج کے دور میں جب انسان مادی آسائشوں کی دوڑ میں روحانی سکون سے دور ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں اولیائے کرام کی تعلیمات انسان کو اپنی حقیقی منزل یاد دلاتی ہیں۔
بزرگوں کا شناختی کارڈ نہیں، ان کی خدمت اور دعائیں اصل سرمایہ
مولانا نے بزرگوں اور عمر رسیدہ افراد کے احترام کی اہمیت پر بھی خصوصی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بوڑھے والدین اور بزرگ افراد کسی بوجھ کا نام نہیں بلکہ گھر کی برکت، تجربے کا خزانہ اور دعاؤں کا سایہ ہیں۔ ان کے ساتھ حسنِ سلوک، خدمت اور احترام اسلامی معاشرت کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بزرگوں کی قدر صرف ان کے شناختی کارڈ یا عمر سے نہیں بلکہ ان کی زندگی بھر کی قربانیوں، تجربات اور دعاؤں سے ہونی چاہیے۔ والدین اور بزرگوں کی خدمت کو سعادت سمجھنا چاہیے، کیونکہ جن ہاتھوں نے ہماری پرورش کی، بڑھاپے میں انہی ہاتھوں کو سہارا دینا اولاد کی ذمہ داری ہے۔
خطاب کے اختتام پر مولانا محمد اسماعیل اشاعتی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ نماز کی پابندی کریں، قرآنِ کریم سے اپنا تعلق مضبوط کریں، والدین و بزرگوں کا احترام کریں، حقوق العباد ادا کریں اور اولیائے کرام کی تعلیمات کو صرف سننے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔
دعا کے ساتھ مجلس کا اختتام ہوا، جس میں ملک و ملت، امن و سلامتی، امتِ مسلمہ کی سربلندی اور تمام مرحومین کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔




