مہاراشٹر: بڑی خبر! مسلمانوں کے ساتھ ریاستی حکومت کی ناانصافی؛ مسلم سماج کا 5 فیصد ایس بی سی ریزرویشن منسوخ، سرکاری حکم نامہ جاری

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :ریاست میں مسلم برادری کے لیے ایک اہم اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ ریاستی حکومت نے مسلم سماج کو دیے گئے 5 فیصد ایس بی سی (Special Backward Category-A) ریزرویشن کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جاری کیا گیا سرکاری حکم نامہ اورسرکولر بھی رد کر دیے گئے ہیں۔ ذات کا سرٹیفکیٹ اورذات کی توثیقی سند جاری کرنے سے متعلق احکامات بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے مسلم ریزرویشن پرعبوری روک لگائے جانے کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ تقریباً 12 سال قبل نافذ کیا گیا یہ ریزرویشن اب باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
حکومت کے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم طبقے کے لیے خصوصی پسماندہ زمرہ-اے (SBC-A) کے تحت سرکاری و نیم سرکاری براہِ راست بھرتیوں اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے 5 فیصد ریزرویشن عام انتظامیہ محکمہ کے 2014 کے آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اقلیتی ترقی محکمہ کے حکومتی فیصلے کے مطابق براہِ راست بھرتیوں میں SBC-A زمرے کے لیے 5 فیصد ریزرویشن فراہم کیا گیا تھا اور مسلم سماج کو ذات سرٹیفکیٹ اور ذات کی توثیق نامہ جاری کرنے سے متعلق ہدایات بھی دی گئی تھیں۔
سن 2014 کے مہاراشٹر آرڈیننس نمبر 14 کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن نمبر 2053/2014 شری سنجیت شکلا بنام مہاراشٹر حکومت و دیگر سمیت دیگر درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ 14 نومبر 2014 کو عدالت نے اس آرڈیننس کی دفعہ 4(1) کے تحت ریاستی کنٹرول میں آنے والی سرکاری ملازمتوں میں 5 فیصد تقرریاں SBC-A کے لیے مخصوص کرنے کی شق پر عبوری روک لگا دی تھی۔
عام انتظامیہ محکمہ کا یہ آرڈیننس 23 دسمبر 2014 تک قانون میں تبدیل نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے وہ خود بخود کالعدم ہو گیا اور اس کے تحت جاری کیے گئے تمام حکومتی فیصلے اور سرکولر بھی ازخود منسوخ تصور کیے گئے۔ اسی پس منظر میں 2 مارچ 2015 کو عام انتظامیہ محکمہ نے 24 جولائی 2014 کے حکومتی فیصلے کو بھی منسوخ کر دیا تھا۔ اب اقلیتی ترقی محکمہ کی جانب سے جاری کیے گئے تمام متعلقہ احکامات اور سرکولرز کو بھی باضابطہ طور پر رد کر دیا گیا ہے۔
حکومت کا نیا فیصلہ
حکومت کے مطابق: 14 نومبر 2014 سے SBC-A کے تحت مسلم سماج کو دیے جانے والے ذات سرٹیفکیٹ اور توثیقی سرٹیفکیٹ کی عمل درآمد پر روک عائد کی جاتی ہے۔
چونکہ 9 جولائی 2014 کا آرڈیننس (مہاراشٹر آرڈیننس نمبر 14) 23 دسمبر 2014 تک قانون میں تبدیل نہیں ہوا، اس لیے اس کی بنیاد پر جاری کیے گئے تمام حکومتی فیصلے اور سرکولر منسوخ کیے جاتے ہیں۔
یہ سرکاری فیصلہ مہاراشٹر حکومت کی سرکاری ویب سائٹ www.maharashtra.gov.in
پر بھی دستیاب ہے۔ اس کا کمپیوٹر کوڈ 2026021716 36127222 درج ہے اور اسے ڈیجیٹل دستخط کے ساتھ جاری کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ریاست کے مسلم سماج کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جس کے سماجی اور تعلیمی اثرات پر اب وسیع بحث متوقع ہے۔


