تعلیم و روزگار

اورنگ آباد: واٹس ایپ کے ذریعے ہوم ورک دینا بند کیا جائے؛کلاس کی نوٹ بکس کے ذریعے ہوم ورک دینے کا مطالبہ؛ تعلیمی افسرمحترمہ اشونی لاتکر کو والد شکیل احمد شیخ کا میمورنڈم

اورنگ آباد: (کاوش جمیل نیوز) :طلبہ، خصوصاً پرائمری اور کم عمر بچوں کو واٹس ایپ کے ذریعے باقاعدگی سے ہوم ورک بھیجنے کا طریقہ بند کرکے کلاس ڈائری، کاپی یا کلاس روم کے بلیک بورڈ کے ذریعے ہوم ورک دینے کا مطالبہ والد، سماجی کارکن اور صحافی شکیل احمد شیخ نے کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے تعلیمی افسر محترمہ اشونی لاتکر کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے طلبہ کی صحت اور تعلیمی مفاد کو سنجیدگی سے مدنظر رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ اس وقت بعض اسکولوں میں طلبہ کو واٹس ایپ کے ذریعے ہوم ورک بھیجا جا رہا ہے۔ خصوصاً پرائمری جماعت کے طلبہ کو ہوم ورک دیکھنے اور مکمل کرنے کے لیے والدین کا موبائل فون استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے طلبہ کا غیر ضروری اسکرین ٹائم بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے ان کی پڑھائی، نیند، کھیل کود اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے کا اندیشہ والدین میں پیدا ہو رہا ہے۔
ہوم ورک کے لیے بچوں کے ہاتھ میں موبائل دینے کے بعد کئی مرتبہ ان کی توجہ پڑھائی کے بجائے گیمز، یوٹیوب، ریلز اور دیگر تفریحی مواد کی جانب مبذول ہو جاتی ہے۔ شکیل احمد شیخ نے میمورنڈم میں کہا ہے کہ اس سے کم عمری میں ہی موبائل فون استعمال کرنے کی عادت پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
کم عمر بچوں کی آنکھوں پر دباؤ، نیند کے معمول میں تبدیلی، پڑھائی میں توجہ کی کمی اور کھیل کود و جسمانی سرگرمیوں پر منفی اثرات سے بچنے کے لیے اسکولوں کو حتی الامکان واٹس ایپ کے ذریعے ہوم ورک بھیجنے کے بجائے کلاس ڈائری، کاپی یا کلاس روم کے بلیک بورڈ پر ہوم ورک دینے کا روایتی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
محکمہ تعلیم سے اہم مطالبات
شکیل احمد شیخ نے میمورنڈم کے ذریعے درج ذیل مطالبات پیش کیے ہیں:
1) کم عمر اور پرائمری جماعت کے طلبہ کو واٹس ایپ کے ذریعے باقاعدگی سے ہوم ورک بھیجنے کا طریقہ بند کیا جائے۔
2) ہوم ورک کلاس ڈائری، کاپی یا کلاس روم کے بلیک بورڈ پر دینے کے سلسلے میں اسکولوں کو رہنما ہدایات جاری کی جائیں۔
3) طلبہ کے غیر ضروری اسکرین ٹائم کو کم کرنے کے لیے اسکولوں کی جانب سے مناسب اقدامات کیے جائیں۔
4) ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال صرف تعلیمی ضرورت کے مطابق اور محدود پیمانے پر کرنے کے لیے اسکولوں کو ہدایات دی جائیں۔
5) طلبہ کی جسمانی اور ذہنی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے والدین، اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے باہمی تعاون سے مناسب پالیسی تیار کی جائے۔
شکیل احمد شیخ نے کہا کہ ”بچوں کی تعلیم جتنی اہم ہے، اتنی ہی ان کی صحت، ذہنی آسودگی، کھیل کود، مطالعہ اور تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما بھی اہم ہے۔ اس لیے اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے متعلقہ اسکولوں کو مناسب رہنما ہدایات جاری کی جائیں۔“
انہوں نے امید ظاہر کی کہ محکمہ تعلیم اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے طلبہ کے مفاد میں مناسب کارروائی کرے گا۔
میمورنڈم پیش کرتے ہوئے والد شکیل احمد شیخ نے طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ڈیجیٹل ذرائع کے متوازن استعمال اور روایتی ہوم ورک کے طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!