تعلیم و روزگار

اورنگ آباد ڈویژن میں شالارتھ آئی ڈی گھوٹالہ؟ چھ برس میں 10 ہزارآئی ڈی منظور؛ محکمۂ تعلیم میں ہلچل، شالارتھ آئی ڈی کی چونکا دینے والی حقیقت آئی سامنے ؛ تعلیم یا بدعنوانی؟ شالارتھ آئی ڈی اسکینڈل سے سرکاری نظام بے نقاب ؛ ایس آئی ٹی کرے گی جانچ

اورنگ آباد: (کاوش جمیل نیوز) :جعلی اساتذہ بھرتی کے معاملے کے بعد ریاست میں شالارتھ آئی ڈی سے متعلق معاملات ایک بار پھر بحث میں آ گئے ہیں۔ اورنگ آباد کے صرف تعلیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے دفتر نے سال 2019 سے 2024 کے درمیان، محض چھ برسوں میں 10 ہزار 60 شالارتھ آئی ڈی منظور کیے ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کورونا کے دوران جب عملی طور پر اسکول بند تھے اور نئی بھرتی کا عمل رکا ہوا تھا، اس کے باوجود اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو بڑی تعداد میں شالارتھ آئی ڈی جاری کی گئیں، جس پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان تمام معاملات کی اب خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) تفصیلی جانچ کرے گی۔
ریاست کے مختلف حصوں میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ نااہل اساتذہ اورغیر تدریسی ملازمین کے نام قواعد کے خلاف شالارتھ نظام میں شامل کرکے انہیں تنخواہیں ادا کی گئیں۔ موصول ہونے والی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمۂ تعلیم نے 7 اگست 2025 کو پونے کے ڈویژنل کمشنر چندرکانت پلکنڈوار کی صدارت میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی۔ اس ٹیم میں پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (لاء اینڈ آرڈر) منوج شرما اور محکمۂ تعلیم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہارون اَتار کو رکن کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
یہ تفتیشی ٹیم ریاست بھر کے ڈویژنل تعلیمی دفاتر کے تحت آنے والے امدادی اور جزوی امدادی پرائمری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں اساتذہ و غیر تدریسی عملے کی ذاتی منظوری، شالارتھ منظوری، سروس میں تسلسل، اور بغیر امداد سے امدادی عہدوں پر کی گئی منتقلیوں کی جانچ کرے گی۔ اسی پس منظر میں اورنگ آباد ڈویژن کے تعلیمی ڈپٹی ڈائریکٹر، ایجوکیشن آفیسر کے دفاتر اور سیکنڈری و ہائر سیکنڈری بورڈز کی جانب سے شالارتھ آئی ڈی کی فائلوں کی تلاش اور تصدیق کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ دستیاب تمام فائلیں ایس آئی ٹی کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
چونکہ ایس آئی ٹی آئندہ ہفتے ڈویژن کے دورے پر آ رہی ہے، اس لیے محکمۂ تعلیم کے افسران میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ شالارتھ آئی ڈی جاری کیے جانے والے معاملات کی تعداد چونکا دینے والی بتائی جا رہی ہے۔ اورنگ آباد ڈویژن میں اورنگ آباد، جالنہ، بیڑ، پربھنی اور ہنگولی اضلاع شامل ہیں۔ 2019 سے 2025 کے درمیان دی گئی شالارتھ آئی ڈی کی تعداد غیر معمولی حد تک زیادہ سامنے آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، صرف ڈپٹی ڈائریکٹر کے دفتر نے پرائمری اور سیکنڈری سطح پر 10 ہزار 60 اساتذہ و غیر تدریسی ملازمین کو شالارتھ آئی ڈی دی ہیں۔
ایس آئی ٹی کو 2012 سے اب تک کے تمام معاملات کی جانچ کے بھی احکامات دیے گئے ہیں۔ اس کے تحت شالارتھ آئی ڈی سے متعلق تمام فائلوں کی تصدیق اور انہیں پیش کرنے کی ہدایت ایجوکیشن آفیسرز کو دی گئی ہے۔ ہر فائل کی الگ الگ جانچ کی جائے گی۔ 2012 سے 2019 کے درمیان دی گئی شالارتھ آئی ڈی کی تعداد بھی خاصی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
ریاست میں جعلی اساتذہ بھرتی کے معاملے میں اب تک کئی افسران گرفتار ہو چکے ہیں۔ مراٹھواڑہ کے بیڑ، لاتور سمیت کئی اضلاع میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو جعلی تقرریاں دینے کی شکایات درج ہوئی ہیں۔ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کورونا کے دوران، جب اسکول عملاً بند تھے اور دفاتر پر پابندیاں تھیں، اس کے باوجود بڑے پیمانے پر شالارتھ آئی ڈی جاری کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف ڈپٹی ڈائریکٹر کے دفتر سے اس دوران تقریباً چار ہزار شالارتھ آئی ڈی منظور ہوئیں، جن میں سے کچھ فائلیں لاپتہ بھی ہیں۔

ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر دفتر کے تحت اعداد و شمار
ضلع – پرائمری – سیکنڈری (2019 تا 2022):

اورنگ آباد : 637 – 817
جالنہ: 224 – 666
بیڑ: 454 – 636
پربھنی: 371 – 732
ہنگولی: 144 – 277

ضلع – پرائمری – سیکنڈری (2022 تا 2025):
اورنگ آباد: 1063 – 863
جالنہ: 169 – 432
بیڑ: 463 – 797
پربھنی: 358 – 488
ہنگولی: 165 – 306
یہ تمام اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد محکمۂ تعلیم میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور اب سب کی نظریں ایس آئی ٹی کی جانچ پر لگی ہوئی ہیں۔ اس تعلق سے آگے کی کیا کاروائی ہوتی ہے اور جانچ کس سمت چل رہی ہے اس کی تمام معلومات کاوش جمیل کی ٹیم آپ تک پہنچانے کی پوری پوری کوشش کرے گی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!