اکوله،کل جماعتی تنظیم کا ‘اجلاسِ عام’ اختتام پذیر؛ ملک کے موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریوں پر سنجیدہ غور و فکر

اکولہ:،2/جولائی: (ڈاکٹر ذاکر نعمانی) :کل جماعتی تنظیم، اکولہ کے زیرِ اہتمام تیلی پورہ میں واقع نگینہ مسجد میں ایک اہم ‘اجلاسِ عام’ کا کامیابی کے ساتھ انعقاد عمل میں آیا۔ اس خصوصی بزم کا مرکزی عنوان ‘ملک کے موجودہ حالات، ہماری ذمہ داریاں اور لائحہ عمل’ تھا، جس میں اکولہ کے مسلم معاشرے نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ملک کے موجودہ حالات، بالخصوص یکساں سول کوڈ (UCC)، ایس آئی آر (SIR) اور دیگر اہم سماجی و مذہبی (ملی اور دینی) امور پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ مقررین نے بدلتے ہوئے دور میں معاشرے کی ذمہ داریوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے کھل کر رہنمائی فرمائی۔اس اجلاس میں مہمانِ خصوصی اور بحیثیتِ مقرر مدعو کیے گئے جید علمائے کرام اور دانشوروں نے عوام سے خطاب کیا،مولانا نظام الدین فخر الدین صاحب(رکن، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و نائب صدر، کل جماعتی وفاق مہاراشٹر) نے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی موجودہ حالات میں فہم و فراست اور اتحاد کے ساتھ کام کرنے پر زور دیا، اور نوجوانوں کو آگے آ کر اپنی خدمات پیش کرنے کی ترغیب دی۔مولانا اطہر اشرفی صاحب اور محترم الیاس مومن صاحب (رکن، مجلسِ عاملہ، کل جماعتی وفاق مہاراشٹر) نے بھی بحیثیتِ مقررِ خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور قوم سے اپنی دینی و سماجی ذمہ داریوں کو پہچاننے کی اپیل کی۔ الیاس مومن صاحب نے ایس آئی آر (SIR)، یو سی سی (UCC) اور کنورژن بل (قانونِ تبدیلیِ مذہب) پر تفصیلی معلومات فراہم کیں، جبکہ مولانا اشرفی صاحب نے تمام مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق برقرار رکھتے ہوئے ان مسائل پر جدوجہد کرنے کا مشورہ دیا۔رات 9:30 بجے شروع ہونے والے اس پروگرام میں کل جماعتی تنظیم، اکولہ کی اپیل پر علمائے کرام، معززینِ شہر اور اکولہ کے کونے کونے سے لوگ وقتِ مقررہ پر جوش و خروش کے ساتھ نگینہ مسجد پہنچے۔ پرامن اور منظم طریقے سے منعقد ہونے والے اس اجلاس میں معاشرے کے دانشوروں اور نوجوانوں کی حاضری قابلِ ذکر رہی۔ پروگرام کے اختتام پر ملک میں امن و امان، بھائی چارے اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔




