ناندیڑ کی سیاست میں ہلچل؛ ایم آئی ایم میں کانگریسی رہنماؤں کی بڑی انٹری ؛ مسلم ووٹوں کی تقسیم کا خدشہ ؛بلدیاتی انتخاب سے قبل کانگریس بمقابلہ ایم آئی ایم، بی جے پی کو فائدے کے آثار

ناندیڑ: (کاوش جمیل نیوز) :بھوکَراور مدکھیڑ میں بلدیہ صدر کے انتخابات کے دوران کانگریس امیدواروں کو شکست دینے کے لیے کیا گیا ایم آئی ایم تجربہ مکمل طورپرکامیاب ثابت ہوا تھا۔ اب اسی سیاسی حکمتِ عملی کا اگلا مرحلہ ناندیڑ میں شروع ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں، جس نے ضلع کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
خاص طور پر سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے قد آور رہنما اشوک چوہان کے اثر و رسوخ والے علاقوں میں اس تجربے نے کانگریس کو بڑا نقصان پہنچایا تھا۔ اب ناندیڑ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی اسی طرز پر سیاسی بساط بچھائی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں کانگریس کے دو سابق نائب میئرز سمیت 10 سابق کارپوریٹرز نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام سابق کارپوریٹرز ماضی میں اشوک چوہان کے نہایت قریبی سمجھے جاتے تھے، حتیٰ کہ ان میں سے بعض نے پہلے ایم آئی ایم سے کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ بلدیہ عظمیٰ کے انتخابات کے پیشِ نظر پرانے اور نئے ناندیڑ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں حالیہ دنوں میں سیاسی سرگرمیاں غیر معمولی طور پر تیز ہو گئی ہیں۔ کانگریس کے ساتھ وابستہ مسلم رہنماؤں کا الزام ہے کہ یہ ساری حکمتِ عملی بالواسطہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے اپنائی جا رہی ہے۔
بھوکَر بلدیہ صدر کے انتخاب میں بی جے پی کے بھگوان دنداوے نے کانگریس کے سندیپ گووندبابا گاؤڑ کو واضح فرق سے شکست دی۔ اس انتخاب سے قبل گاؤڑ کے قریبی ساتھی مبین مولانا کا اچانک ایم آئی ایم میں جانا اور الگ امیدوار کے طور پر میدان میں اترنا، مسلم ووٹوں کی تقسیم کا سبب بنا۔ یہی تقسیم بی جے پی کی کامیابی کا بنیادی سبب مانی جا رہی ہے۔
اسی طرح مدکھیڑ میں بھی کانگریس کو اسی نوعیت کا نقصان اٹھانا پڑا۔ یہاں کانگریس کے ایک سابق کارپوریٹر کی اہلیہ حنا کوثر نے ایم آئی ایم کے ٹکٹ پر انتخاب لڑتے ہوئے ہزاروں ووٹ حاصل کیے، جس کے باعث کانگریس امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان نتائج کے بعد ‘بھوکَر، مدکھیڑ پیٹرن’ سوشل میڈیا پر خوب زیرِ بحث رہا اور اب اسی پیٹرن کے ناندیڑ میں دہرائے جانے کی بات کی جا رہی ہے۔
بلدیہ عظمیٰ کے انتخابی عمل کے آغاز سے قبل ہی کانگریس کے سابق نائب میئر شمیّم عبداللہ، مسعود احمد خان، حبیب باغوان، چاند پاشا قریشی، عبدالرشید، انصار احمد خان، عبدالحفیظ اور ناصر خان کی ایم آئی ایم میں شمولیت کا اعلان ہو چکا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مزید دو سابق کارپوریٹرز بھی اسی راستے پر ہیں۔
واضح رہے کہ تقریباً تیرہ برس قبل ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں ایم آئی ایم نے مضبوط آغاز کیا تھا، لیکن بعد کے انتخابات میں اس کا اثر کم ہوتا گیا، حتیٰ کہ 2017 میں اسے ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوئی تھی اور مسلم اکثریتی علاقوں میں کانگریس نے مکمل کامیابی حاصل کی تھی۔ موجودہ حالات میں کانگریس کے اسی مضبوط قلعے کو کمزور کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
کانگریس کے سابق میئر اور شہر صدرعبدالستّار کا کہنا ہے کہ باشعور مسلم ووٹر ان سیاسی چالوں کو بخوبی سمجھتے ہیں اور سماج میں ان حالیہ پیش رفتوں پر ناراضگی بھی پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق کانگریس کے پاس اب بھی متبادل اور مضبوط امیدوار موجود ہیں اور آنے والے انتخابات میں عوام صحیح فیصلہ کریں گے۔



