بریکنگ نیوز: جعلی شالارتھ آئی ڈی کیس میں بڑی کارروائی، وردھا کا ایجوکیشن افسر کاٹولکرجیل میں؛ ناگپور سے وردھا تک شالارتھ گھوٹالے کی کڑیاں بے نقاب ؛ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

ناگپور: (کاوش جمیل نیوز) :جعلی شالارتھ آئی ڈی کارڈ معاملے میں بغیر کسی جانچ کے تنخواہوں کی منظوری دے کر حکومت کو تقریباً 12 کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں وردھا کے ایجوکیشن افسر رویندر شنکر راؤ کاٹولکر کو خصوصی تفتیشی دستے نے منگل کے روز گرفتار کر لیا۔
اطلاعات کے مطابق، کاٹولکر نے ناگپور کے ایجوکیشن افسر دفتر میں خدمات انجام دیتے ہوئے جعلی شالارتھ شناختی کارڈ سے متعلق تجاویز تنخواہوں کی منظوری کے لیے بھیجیں۔ اسکولوں کی جانب سے موصولہ تجاویز کی کسی قسم کی جانچ پڑتال کیے بغیر ہی انہوں نے یہ فائلیں تنخواہ شعبے کو روانہ کر دیں، جس کے نتیجے میں متعلقہ اساتذہ کی تنخواہیں جاری ہو گئیں اور حکومت کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
مزید الزام یہ بھی ہے کہ جب کاٹولکر ناگپور ضلع پریشد میں تعلیم افسر (پرائمری) کے عہدے پر فائز تھا، تب انہیں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے شالارتھ شناختی کارڈ جعلی ہونے کا علم ہونے کے باوجود ان کی باقاعدہ اور بقایا تنخواہیں جاری کروائیں۔ اس وقت کاٹولکر وردھا میں تعلیم افسر (ثانوی) کے طور پر تعینات تھا۔
گرفتاری کے بعد خصوصی تفتیشی دستے نے کاٹولکر کو فوری طور پر فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا، جہاں عدالت نے اُسے جمعرات، 25 دسمبر تک پولیس تحویل میں بھیج دیا۔
اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے خصوصی تفتیشی دستے اور سائبر برانچ نے اب تک ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن، تعلیم افسران، کلرکس، اسکول ہیڈماسٹرز، اسکول ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ اساتذہ سمیت کل 25 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ کاٹولکر کی گرفتاری کے بعد یہ تعداد 26 ہو گئی ہے۔
خصوصی تفتیشی دستہ اور متوازی طور پر جانچ کر رہی سائبر برانچ اس گھوٹالے کی جڑوں تک پہنچنے میں مصروف ہیں۔ دونوں ایجنسیوں نے مل کر اب تک 25 گرفتاریاں کی تھیں، جن میں سے سائبر سیل نے 10 اور خصوصی تفتیشی دستے نے 15 افراد کو گرفتار کیا۔ اس سے قبل نرڈ، نائک اور ونجاری نامی تین ملزمان کے خلاف دونوں ٹیموں نے مشترکہ کارروائی کی تھی۔ بیشتر ملزمان ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تفتیشی ایجنسیوں نے اس کیس میں عدالت میں ابتدائی چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے۔



