مہاراشٹر

چندرپورکا حساب بھیونڈی میں چُکانے کی تیاری! بی جے پی میں بغاوت، کانگریس کے ’سیکولر فرنٹ‘ کو واضح برتری؛کانگریس مضبوط پوزیشن میں

بھیونڈی: (کاوش جمیل نیوز) :چندرپورمیونسپل کارپوریشن میں سب سے زیادہ نشستیں جیتنے کے باوجود کانگریس کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا تھا۔ کانگریس کے اندرونی اختلافات اور گروپ بندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ٹھاکرے شیو سینا کی مدد سے اقتدار قائم کیا تھا۔ اب کانگریس نے بھیونڈی میں چندرپور کا بدلہ لینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
بھیونڈی میونسپل کارپوریشن انتخابات میں کانگریس نے سب سے زیادہ 30 نشستیں حاصل کیں، جبکہ بی جے پی کو 22 نشستیں ملیں۔ شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور ایکناتھ شندے کی شیو سینا کو 12-12 نشستیں حاصل ہوئیں۔ اقتدار قائم کرنے کے لیے 46 کا ہندسہ درکار ہے۔
بی جے پی کے اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ پارٹی کے 9 کارپوریٹروں پر مشتمل ایک ناراض گروپ نے کانگریس کی قیادت میں قائم ’بھیونڈی سیکولر فرنٹ‘ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پیش رفت سے بی جے پی کو بڑا دھچکہ لگا ہے۔ کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور بی جے پی کے باغی گروپ کی مجموعی تعداد 50 سے تجاوز کر رہی ہے، جس سے کانگریس اتحاد کے اقتدار کا راستہ ہموار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
انتخابی نتائج کو ایک ماہ گزر چکا ہے، لیکن اقتدار کی کشمکش برقرار ہے۔ بی جے پی نے پہلے نارائن چودھری کو میئر امیدوار نامزد کیا تھا، تاہم بعد میں ان کی امیدواری منسوخ کر کے سنیہا پاٹل کو امیدوار بنایا گیا۔ اس فیصلے سے ناراض ہو کر چودھری نے کانگریس کے قائم کردہ سیکولر فرنٹ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں کانگریس نے انہیں میئر کے عہدے کے لیے امیدوار بھی نامزد کر دیا اور وہپ جاری کیا۔
چندرپور میں بی جے پی نے کانگریس کی گروپ بندی کا فائدہ اٹھایا تھا، اور اب بھیونڈی میں کانگریس بی جے پی کے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھاتی نظر آ رہی ہے۔ بی جے پی کے 9 کارپوریٹروں کا باغی گروپ کانگریس کے ساتھ آ چکا ہے، جس سے سیکولر فرنٹ کے اقتدار کی راہ مزید آسان ہو گئی ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اقتدار کے لیے پارٹی اپنے نظریات سے سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ “ہم بی جے پی یا شندے سینا کے ساتھ نہیں جائیں گے، نہ ان کا ساتھ لیں گے اور نہ ہی انہیں حمایت دیں گے۔ اگر کوئی بی جے پی چھوڑ کر ان کی نظریاتی پالیسی سے دستبردار ہو کر ہمارے ساتھ آتا ہے تو ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ہماری شرط یہی تھی کہ وہ پارٹی چھوڑیں، جس پر ہمیں مثبت ردعمل ملا ہے۔”
نارائن چودھری پہلے کانگریس میں تھے، لیکن انتخاب سے قبل بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے۔ اب انہوں نے الگ گروپ بنا کر کانگریس کی قیادت والے سیکولر فرنٹ میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے، جس کا کانگریس نے خیرمقدم کیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!