آخرکارغیر تدریسی ملازمین کی بھرتی کی راہ ہموار؛ جونیئر کلرک، لائبریرین اور لیب اسسٹنٹ کے عہدوں پر تقرری کی حکومتی منظوری؛ اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کی مسلسل جدوجہد اور پیروی کامیاب

ناسک: (خصوصی رپورٹ) : مہاراشٹر کی منظور شدہ جزوی و مکمل امداد یافتہ ثانوی اور اعلیٰ ثانوی اسکولوں میں گزشتہ کئی برسوں سے زیرِ التوا غیر تدریسی ملازمین کی بھرتی کی راہ آخرکار ہموار ہوگئی ہے۔ حکومت نے 11 اگست 2026 کو حکومتی فیصلہ جاری کرتے ہوئے غیر تدریسی عہدوں کو براہِ راست بھرتی کے ذریعے پُر کرنے کی منظوری دے دی ہے،حکومتی فیصلے کے مطابق اسکولوں میں جونیئر کلرک (Junior Clerk)، کل وقتی لایبریرین، (Librarian) اور لیبارٹری اسسٹنٹ (Lab Assistant) کے عہدوں کو مقررہ ضوابط کے مطابق پُر کرنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔غیر تدریسی ملازمین کے دیرینہ اور زیرِ التوا مسائل کے حل کے لیے اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ11138 کی جانب سے گزشتہ کئی عرصے سے حکومت کے سامنے مسلسل پیروی کی جا رہی تھی۔ تنظیم کے بانی ساجد نثار احمد اور ریاستی صدر (ثانوی) عرفان انصاری نے مختلف مکتوبات، نمائندگیوں اور سرکاری میٹنگوں کے ذریعے غیر تدریسی عہدوں کی بھرتی کا مسئلہ مسلسل اور مضبوطی سے پیش کیا۔خصوصاً 29 جولائی 2026 کو پرنسپل سیکریٹری کے ساتھ منعقدہ اہم میٹنگ میں غیر تدریسی ملازمین کی بھرتی کا مسئلہ ترجیحی بنیاد پر اٹھایا گیا۔ تنظیم کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ جس طرح اساتذہ کی بھرتی کا عمل شروع کیا گیا ہے، اسی طرز پر کئی برسوں سے خالی پڑے غیر تدریسی عہدوں کو بھی فوری طور پر پُر کیا جائے۔اس موقع پر ریاستی وزیرِ تعلیم دادا بھوسے اور اسکولی تعلیم محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری رنجیت سنگھ دیول کے سامنے یہ مسئلہ مضبوطی سے پیش کیا گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے غیر تدریسی ملازمین کی بھرتی کے سلسلے میں مثبت فیصلہ لینے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔ مسلسل پیروی کے نتیجے میں بالآخر 11 اگست کو حکومتی فیصلہ جاری کرتے ہوئے بھرتی کے عمل کو باضابطہ منظوری دے دی گئی،اس فیصلے سے ریاست کے امداد یافتہ ثانوی و اعلیٰ ثانوی اسکولوں میں جونیئر کلرک، کل وقتی کتب دار اور لیبارٹری اسسٹنٹ کے خالی عہدوں کو پُر کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اس کے باعث کئی برسوں سے ملازمت کے منتظر اہل امیدواروں کو بڑی راحت ملی ہے، جبکہ اسکولوں کے انتظامی اور تعلیمی امور کے لیے ضروری افرادی قوت بھی دستیاب ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔اس تاریخی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ساجد نثار احمد نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف کسی ایک فرد یا تنظیم کی کامیابی نہیں بلکہ مہاراشٹر کے تمام غیر تدریسی ملازمین، ملازمت کے منتظر امیدواروں اور ان کے جائز مطالبات کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے والے تمام افراد کی اجتماعی جدوجہد اور اتحاد کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جائز مسئلے کو مسلسل اور مضبوط انداز میں حکومت کے سامنے پیش کیا جائے تو مثبت نتیجہ ضرور حاصل ہوتا ہے۔ ساجد نثار احمد نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس،وزیر تعلیم داداجی بھوسے صاحب کا شکریہ ادا کیا ہے ۔




