مہاراشٹر

اورنگ آباد میں ضلع پریشد و پنچایت سمیتی انتخابات کولیکرمہایوتی اتحاد پرہنگامہ، بی جے پی کارکنان نے وزیر اتُل ساوے کی گاڑی کا گھیراؤ کیا؛ اتحاد نہ کرنے کا مطالبہ

اورنگ آباد: (کاوش جمیل نیوز) :مہانگر پالیکا انتخابات کے بعد اب ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے انتخابات کے پس منظر میں اورنگ آباد میں مہایوتی کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی۔ مہانگر پالیکا انتخابات کے دوران مہایوتی کے دونوں اتحادیوں کے درمیان تقریباً 12 اجلاس ہونے کے باوجود عین وقت پر اتحاد ٹوٹ گیا تھا۔ اس انتخاب میں بی جے پی کو اچھی کامیابی ملی، جب کہ شیو سینا کو توقع کے مطابق کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
اب آئندہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی انتخابات کے پیشِ نظر بی جے پی اور شیو سینا کے قائدین کے درمیان ایک اہم میٹنگ اورنگ آباد کے کیز ہوٹل میں ہوئی۔ میٹنگ کے بعد اتحاد کا اعلان کیا گیا، تاہم اس اعلان کے فوراً بعد بی جے پی کے کارکنان برہم ہو گئے۔
بی جے پی کی جانب سے وزیر اتل ساوے، رکنِ پارلیمان بھاگوت کراڈ اور رکنِ اسمبلی سنجے کینیکر اجلاس میں موجود تھے، جبکہ شیوسینا کی طرف سے نگران وزیر سنجے شرساٹھ، رکنِ پارلیمان سندیپان بھومرے، رکنِ اسمبلی رامیش بورنارے اور سنجنا جادھو شریک تھے۔
دونوں جماعتوں کی میٹنگ کے بعد اتحاد کا اعلان کیا گیا، لیکن ویجا پور کے بی جے پی کارکنان نے اس اتحاد کی مخالفت کرتے ہوئے اتحاد توڑنے کا مطالبہ کیا۔ اسی احتجاج کے دوران بی جے پی کارکنان نے وزیر اتُل ساوے کی گاڑی کا گھیراؤ کیا اور زوردار نعرے بازی کی۔
بعد ازاں اتُل ساوے اور سنجے شرساٹھ نے پریس کانفرنس کر کے اتحاد کی باضابطہ اعلان کیا۔ اعلان کے مطابق بی جے پی کو 27 جبکہ شیو سینا کو 25 نشستیں ملی ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی کارکنان نے اتحاد پر ناراضی ظاہر کی اور موقع پر ہنگامہ آرائی کی کوشش کی۔
اطلاعات کے مطابق دونوں جماعتوں میں امیدواروں کی بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے نشستوں کی تقسیم پرشدید بحث ہوئی۔ میٹنگ کے دوران نشستوں کی تقسیم پر گفتگو کے وقت سنجے شرساٹھ ناراض ہو کر اجلاس سے باہر چلے گئے تھے، تاہم شیوسینا کے رکن پارلیمان سندیپان بھومرے نے انہیں منا کر دوبارہ اجلاس میں شامل کرایا۔
دریں اثنا بی جے پی کارکنان کے احتجاج پر شیو سینا کے رہنما سندیپان بھومرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے تمام بڑے قائدین اجلاس میں موجود تھے، اس میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ ہماری صرف ایک نشست (بیڑکن) کم ہوئی ہے۔ ہم ہر کارکن کو انصاف دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اتحاد میں کہیں نہ کہیں سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ اتحاد کا فیصلہ اعلیٰ سطح پر ہوا ہے۔ یہ پورا واقعہ اورنگ آباد میں آئندہ مقامی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول میں بڑھتی ہوئی گرماہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!