مہاراشٹر

کارنجہ روڈ بیڑ میں آئی کان کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ پر سید حسین اختر کا پُرتپاک استقبال؛ دورِ حاضر میں کمپیوٹر تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں: سید حسین اختر

بیڑ: (نمائندہ) :کارنجہ روڈ، بیڑ کے معروف تعلیمی ادارے آئی کان کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ میں گزشتہ دنوں ایک پروقار تقریب کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں مہاراشٹر اردو راجیہ ساہتیہ اکادمی کے چیئرمین جناب سید حسین اختر کا نہایت شاندار اور والہانہ استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ کے پروپرائٹر شیخ قمر علی طاہر حسین اور دیگر ذمہ داران نے مہمانِ خصوصی کا استقبال گلپوشی کے ساتھ کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید حسین اختر نے طلبہ و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت فکرانگیز اور بصیرت افروز انداز میں کہا کہ موجودہ دور تیز رفتار ٹیکنالوجی کا دور ہے، جہاں کمپیوٹر کی تعلیم محض ایک ہنر نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "آج کے عہد میں وہی قومیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں جو علمِ جدید، خصوصاً کمپیوٹر سائنس سے خود کو آراستہ کر رہی ہیں۔ جو طلبہ اس میدان میں مہارت حاصل نہیں کرتے، وہ دراصل اپنے امکانات کو محدود کر دیتے ہیں۔”انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے قیمتی وقت کا صحیح استعمال کریں، تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں بھی حصہ لیں تاکہ ذہنی و جسمانی توازن برقرار رہے۔ مزید کہا کہ تعطیلات کو ضائع کرنے کے بجائے ان کا بہترین مصرف یہی ہے کہ طلبہ مختلف کمپیوٹر کورسیس سیکھ کر اپنے مستقبل کو روشن بنائیں۔سید حسین اختر نے آئی کان کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ گزشتہ کئی برسوں سے نہایت کم فیس میں ملت کے بچوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے، جو ایک قابلِ تقلید اقدام ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے ادارے قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔واضح رہے کہ اس انسٹی ٹیوٹ میں جماعت اول سے آٹھویں تک کے طلبہ کے لیے بیسک کمپیوٹر کورس کا نظم کیا گیا ہے، جبکہ نہم جماعت اور اس سے آگے کے طلبہ و طالبات کے لیے MSCIT سمیت دیگر اہم کورسیس بھی دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ اکاؤنٹنگ جاب، ٹیلی (Tally Prime)، سرکاری ملازمتوں کی تیاری کے کورسیس اور ٹائپنگ کی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ادارے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں طالبات کے لیے علیحدہ کلاسوں کا باقاعدہ انتظام کیا گیا ہے، جس سے والدین میں اطمینان پایا جاتا ہے اور بچیوں کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آتا ہے۔تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی کا شکریہ ادا کیا گیا اور طلبہ میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی، جو ان کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!