مہاراشٹر

ایم آئی ایم کے کارپوریٹرمتین پٹیل سے پولیس کی پوچھ گچھ ؛ ندا خان کو پناہ دینے کے الزام میں متین پٹیل کا بیان ریکارڈ، موبائل ضبط؛ متین پٹیل کی گھر کے انہدام پرعدالتی لڑائی

ناسک : (کاوش جمیل نیوز) :ناسک کے ٹی سی ایس مذہب تبدیلی (دھرمانتر) معاملے میں مرکزی ملزمہ ندا خان کو مبینہ طور پر پناہ دینے کے الزام میں نامزد ایم آئی ایم کے کارپوریٹر متین پٹیل سے پیر کے روز خصوصی پولیس ٹیم نے تفصیلی پوچھ گچھ کی۔ پولیس نے ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے موبائل فون کا پنچنامہ کرکے اسے ضبط بھی کر لیا۔
اس معاملے میں پولیس کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق متین پٹیل کو تفتیش کے لیے حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی تھی، جس پر وہ اپنے وکیل ایڈوکیٹ ابھے سنگھ بھوسلے کے ہمراہ پولیس کے سامنے پیش ہوئے۔ خصوصی تفتیشی ٹیم نے ان کا بیان قلمبند کیا اور مزید تحقیقات کے سلسلے میں آئندہ پیر دوبارہ حاضر ہونے کو کہا ہے۔
ایڈوکیٹ ابھے سنگھ بھوسلے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے مؤکل مکمل طور پر تفتیش میں تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متین پٹیل نے پولیس کے تمام سوالات کے جوابات دیے ہیں، تاہم چونکہ معاملہ زیرِ تفتیش اور عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے بیان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
بھوسلے کے مطابق بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ متین پٹیل نے کارپوریٹر کی حیثیت سے ندا خان کی مدد کی، لیکن حقیقت میں ان سے کسی قسم کی خصوصی مدد طلب نہیں کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ متین پٹیل نے صرف ایک خاتون ہونے کے ناطے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی تھی۔
دوسری جانب متین پٹیل نے کہا کہ انہیں ناسک پولیس کی جانب سے نوٹس موصول ہوا تھا، اسی لیے وہ تفتیش میں شامل ہونے کے لیے حاضر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے جو سوالات کیے ان کے مکمل جوابات دیے گئے اور آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر وہ تفتیش میں تعاون کریں گے۔ متین پٹیل کے مطابق انہوں نے اپنا موبائل فون بھی رضاکارانہ طور پر پولیس کے حوالے کیا ہے۔
اپنے مکان کے انہدام کے معاملے پر متین پٹیل نے انتظامیہ کی کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف عدالت میں عرضی دائر کی گئی ہے اور 15 تاریخ کو سماعت مقرر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے 24 گھنٹے کا وقت دیا تھا لیکن 18 گھنٹوں کے اندر ہی مکان منہدم کر دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی غلط تھی اور وہ عدالت میں اپنے حق کے لیے قانونی لڑائی جاری رکھیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!