مہاراشٹر

بلڈھانہ کی دوشیزہ کا قتل؛ ناسک کے جنگل میں لاش برآمد؛ بلڈھانہ سے ناسک تک قتل کا پولیس نے چند گھنٹوں میں کیا پردہ فاش؛ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

ناسک: (کاوش جمیل نیوز) : ضلع ناسک کے واڈی ورہے علاقے کے سارول جنگل میں ملنے والی ایک نوجوان لڑکی کے قتل کا معمہ پولیس نے چند گھنٹوں میں حل کر لیا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ یہ واردات عشقیہ تعلقات کے تنازعے کا نتیجہ ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ملزم اورمقتولہ دونوں بلڈھانہ ضلع کے رہنے والے ہیں۔
جمعہ کے روز واڈی ورہے پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع سارول کے جنگل سے ایک لڑکی کی لاش برآمد ہوئی۔ اس کی گردن میں چاقو گھونپا گیا تھا اور لاش خون میں لت پت تھی، جس سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ موقع واردات پر کوئی واضح سراغ موجود نہ تھا، مگر پولیس نے فوری طور پر تفتیش کا دائرہ وسیع کیا۔ لاش کے قریب سے ایک چابی اوراس کے ساتھ لگی ہوئی کی چین ملی، جس پر "سنسکرتی” نام درج تھا۔ اسی معمولی سراغ کی بنیاد پر پولیس نے ریاست بھر میں "سنسکرتی” نامی لاپتہ لڑکیوں کی معلومات جمع کیں۔ تحقیقات کے دوران ضلع بلڈھانہ کی سنسکرتی ستیش کالے کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی۔ والد سے رابطہ کرنے کے بعد لاش کی شناخت کر لی گئی۔ مزید تفتیش میں دیشمکھ خاندان کے اتھرو دیشمکھ پر شبہ ظاہر کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ وہ سننر، کوپرگاؤں اور ناسک شہر کے علاقوں میں گھوم رہا ہے۔ نـاسک شہرپولیس کی مدد سے اسے اور اس کے ایک ساتھی کو حراست میں لے لیا گیا۔ دورانِ تفتیش اتھرو نے قتل کا اعتراف کر لیا۔
ملزم کے مطابق اس کے اور سنسکرتی کے درمیان محبت کا تعلق تھا، لیکن اسے کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ دیکھ کر وہ غصے میں آ گیا اور قتل کی منصوبہ بندی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ اتھروناسک کے ایک کالج میں زیرِتعلیم ہے جبکہ سنسکرتی ضلع اکولہ میں تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ کالج کی تعطیلات کے دوران وہ بلڈھانہ آیا ہوا تھا۔ اس نے گھومنے کا بہانہ بنا کر سنسکرتی کو کارمیں بٹھایا۔ راستے میں دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا اور اس نے کار کے اندر ہی چاقو سے وار کر کے اسے قتل کر دیا۔ قتل کے بعد لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے وہ ناسک پہنچا اورواڈی ورہے پولیس اسٹیشن کی حدود کے جنگل میں لاش پھینک دی۔
اطلاع ملتے ہی پولیس انسپکٹربھگوان متھورے اوران کی ٹیم نے باریک بینی سے تفتیش شروع کی اور چند ہی گھنٹوں میں ملزم کو گرفتار کر کے واردات کا پردہ فاش کر دیا۔ اس افسوسناک واقعے سے ناسک ضلع میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے اور نوجوانوں میں بڑھتے جرائم پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!