مہاراشٹر

اورنگ آباد سے کسی ایک عالم دین کو، کوآپ ممبر بنایاجائے؛ اورنگ آباد علماء فائونڈیشن کا قائد مجلس جناب امتیاز جلیل سے پرزورمطالبہ؛میں علماء کرام کا احترام کرتا ہوں، میڈیا نے میرے بیان کو غلط رُخ کے ساتھ پیش کیا…..امتیاز جلیل

اورنگ آباد: (کاوش جمیل نیوز) :تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزاورنگ آباد علما فاؤنڈیشن کے ذمہ داران علماء کے ایک وفد نےامتیاز جلیل صاحب کےاُن کے علماء کے تعلق سے حالیہ بیان کے مسئلہ کے تعلق سے خصوصی ملاقات کی،اور اس غیر مناسب بیان پر وضاحت طلب کی، جس پر جناب امتیاز جلیل صاحب نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیان کو میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا، میں ذاتی طور پر علماء کرام کی بہت قدراور احترام کرتا ہوں،علماء اکرام ہمارے سروں کے تاج ہے، میں نے جو بیان دیا تھا اُس میں واضح 1فیصد کااُن مولانا لوگوں کے تعلق سے کہاجنہیں سب جانتے ہیں،میرا مقصد کسی کی تحقیر نہیں تھا، اگر کسی کو تکلیف ہوئی تو میں اُس کیلئے معذرت خواہ ہوں، میں علماء کرام کا بہت احترام کرتا ہوں، اس ملاقات میں امتیاز جلیل صاحب سے اورنگ آباد علماء فائونڈیشن کے ذمہ داران نے مختلف مسائل پر گفتگو کی، اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کی جانب سے میونسپل کارپوریشن انتخابات میں 33 نشستوں پر شاندار و تاریخی کامیابی پر صدرِ AIMIM مہاراشٹر جناب امتیاز جلیل صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی،اور امتیاز جلیل صاحب سے کہا کہ اورنگ آباد محض ایک شہر نہیں بلکہ AIMIM کا مضبوط سیاسی قلعہ ہے، جہاں علمائے کرام، مساجد، مدارس اور دینی اداروں نے ہمیشہ زمینی سطح پر پارٹی کے حق میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ کامیابی اسی مضبوط عوامی بنیاد، دینی و سماجی اعتماد اور مسلسل جدوجہد کا عملی ثبوت ہے۔ ملاقات میں اس بات کی بھی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ اس سے قبل پارلیمانی انتخابات کے دوران ایمپیریل لانس میں منعقدہ علما کی میٹنگ میں مجلس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ کارپوریشن انتخابات میں کم از کم پانچ علما کو نمائندگی دی جائے، جس پر پارٹی قیادت کی جانب سے یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی، تاہم حالیہ انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران پیدا ہونے والے انتشار کے باعث علما نے اس یقین دہانی کو نظر انداز کیا۔اب جبکہ AIMIM کو تین کوآپٹ (نامزد) ممبران مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہوا ہے، علما فاؤنڈیشن کے ذمہ داران نے امتیاز جلیل صاحب سے کہا ہے کہ سیاسی انصاف اور توازن کا تقاضا ہے کہ ان میں سے کم از کم ایک نشست کسی بااثر، باوقار اور عوامی مقبول عالمِ دین کو دی جائے۔ صرف انتخابات کے وقت علما کو یاد کرنا اور فیصلہ سازی میں ان کی نمائندگی نہ ہونا منفی پیغام دے سکتا ہے۔علماء اکرام نے کہا کہ آئندہ دیہی (گرام پنچایت) انتخابات نہایت قریب ہیں، جہاں علمائے کرام اور ائمۂ مساجد کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے، کیونکہ عام طور پر دیہی علاقوں میں عوام کی رہنمائی دینی قیادت کے ذریعے ہوتی ہے۔ اگر اس مرحلے پر علما کو نمائندگی دی جاتی ہے تو یہ AIMIM کے لیے ووٹ، اعتماد اور تنظیم تینوں سطحوں پر فائدہ مند ثابت ہوگا، نیز پارٹی پر لگایا جانے والا ’’علما مخالف‘‘ ہونے کا تاثر بھی ختم ہو جائے گا۔آخر میں کہا گیا ہے کہ یہ مطالبہ محض ایک اپیل نہیں بلکہ زمینی حقیقت کا اظہار ہے۔ AIMIM کی قیادت اس فیصلے کے ذریعے یہ ثابت کرے گی کہ مجلس صرف سیاست کی نہیں بلکہ حقیقی نمائندگی کی جماعت ہے۔ فیصلہ قیادت کے ہاتھ میں ہے، جس کے اثرات دور رس اور دیرپا ہوں گے۔امتیاز جلیل صاحب نے اورنگ آباد علماء فائونڈیشن کے ذمہ داران کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا علماء کرام کو تیقین دلایا کہ وہ اس معاملہ پر ضرور غور کرینگے، علماء اکرام کو یقینی طور پرسیاست میں آنا چاہئے ہمیں علماء اکرام کے ساتھ کی ضرورت ہے، اور بہت جلد ہم اس تعلق سے مہاراشٹر لیول پرایک بڑا اعلان کرینگے ۔اس وفد میں اورنگ آباد علماء فائونڈیشن کے ذمہ داران قاری مدثر عمراشاعتی،قاری ضیاءا لرحمن فاروقی،مفتی اظہر قاسمی،مولانا ہاشم ملی،مولانا انصار ملی اور دیگر احباب شامل تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!