مہاراشٹر

بالاپورکی رمضانی راتیں روحانیت سے منور؛ کاغذی پورہ اورمرکزِشاہی چوک میں حفاظِ کرام کی دلنشیں تلاوت سے تراویح یادگاربن گئیں محمد سالیم انصاری اور ڈاکٹر حافظ مصباح الدین کی پُرسکون تلاوت نےعبادت کا سماں باندھ دیا!

بالاپور: (ذاکراحمد) :ماہِ رمضان المبارک کی پُرنور اوربرکتوں بھری راتوں میں شہر بالاپور ان دنوں مکمل طور پر روحانیت اور نورِ الٰہی میں ڈوبا ہوا نظر آ رہا ہے۔ کاغذی پورہ واقع بالدّار حافظ مسجد اور مرکزِ شاہی چوک مسجد میں نمازِ تراویح کے دوران قرآنِ مجید کی دل کو چھو لینے والی تلاوت سے ایسا پُرفیض اور روحانی ماحول قائم ہو گیا ہے کہ ہر سو عبادت، سکون اور ایمانی کیف و سرور کی کیفیت طاری ہے۔
بالدّار حافظ مسجد، کاغذی پورہ میں نمازِ تراویح کی امامت اور تلاوت کی سعادت جناب محمد سالیم انصاری (عمر 31 سال) انجام دے رہے ہیں۔ ان کی خوش الحان، واضح اور پُراثر آواز میں کی جانے والی تلاوت سامعین کے قلوب کو مسخر کر لیتی ہے اور نماز گزاروں کو خاص روحانی سکون اور قلبی اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ طویل تراویح کے باوجود ان کی آواز میں نہ تھکن کا شائبہ نظر آتا ہے اور نہ ہی یکسانیت، بلکہ تازگی اور یکسوئی برقرار رہتی ہے، جس کے باعث نمازی پورے انہماک اور خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔
اسی طرح مرکزِ شاہی چوک مسجد میں نمازِ تراویح کی امامت ڈاکٹر حافظ مصباح الدین (عمر 45 سال) فرما رہے ہیں۔ ان کی سنجیدہ، پُراثر اور دل میں اتر جانے والی تلاوت نے مسجد کے ماحول کو مزید پاکیزہ اور روحانی بنا دیا ہے۔ ان کی آواز میں موجود ٹھہراؤ، شیرینی اور تاثیر سامعین کے دلوں میں روحانی سرشاری بھر دیتی ہے اور عبادت کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔
رات کے خاموش اور پُرسکون لمحات میں، جب پورا شہر سکوت کی چادر اوڑھ لیتا ہے، اُس وقت مساجد سے بلند ہونے والی قرآنِ مجید کی مترنم صدائیں فضا کو روحانی توانائی سے معمور کر دیتی ہیں۔ نماز گزاروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں حفاظِ کرام کی دلنواز تلاوت نے نمازِ تراویح کو ایک ناقابلِ فراموش اور یادگار تجربہ بنا دیا ہے۔
شہر کے بزرگوں، نوجوانوں اور روزہ داروں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ بالاپور جیسے چھوٹے شہر میں ایسے باصلاحیت، متقی اور صاحبِ کردار حفاظِ کرام کی موجودگی یقیناً اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے۔ ان کی پُرخلوص تلاوت نہ صرف قلوب کو منور کر رہی ہے بلکہ نئی نسل کو بھی دینِ اسلام اور قرآنِ حکیم سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
بلاشبہ بالاپور کی رمضانی راتیں، بالخصوص کاغذی پورہ اور مرکزِ شاہی چوک، ان حفاظِ کرام کی دلکش اور روح پرور آواز کی بدولت روحانیت کی ایک منفرد پہچان بن چکی ہیں، جو مدتوں اہلِ شہر کے دلوں میں ایک حسین اور ناقابلِ فراموش یاد کے طور پر زندہ رہیں گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!