بالاپور: نئی عیدگاہ میں پہلی مرتبہ عیدالفطر کی نماز ادا، عقیدت و اتحاد کا روح پرور منظر ; 6000 سے 7000 افراد کی شرکت، علما اور پولیس انتظامیہ کے تعاون سے تقریب پُرامن انداز میں مکمل

بالاپور : (ذاکر احمد، شیخ) : شہر کی سرزمین ایک بار پھر ایمان، اخوت اور یگانگت کے حسین رنگوں سے جگمگا اٹھی، جب یہاں نو تعمیر شدہ عیدگاہ میں پہلی مرتبہ عیدالفطر کی نماز ادا کی گئی۔ یہ منظر محض ایک مذہبی فریضے کی ادائیگی تک محدود نہ تھا بلکہ باہمی محبت، سماجی ہم آہنگی اور اجتماعی شعور کی ایک دلکش تعبیر بن کر سامنے آیا۔
عید کی صبح جیسے ہی سورج اپنی نرم و سنہری کرنوں کے ساتھ نمودار ہوا تو شہر کی گلیوں اور محلوں سے ہزاروں افراد نئی عیدگاہ کی جانب رواں دواں نظر آئے۔ ہر چہرہ مسرت سے دمک رہا تھا اور ہر دل اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے جذبے سے سرشار تھا۔ بزرگوں کی سنجیدگی، نوجوانوں کا جوش و خروش اور معصوم بچوں کی مسکراہٹ نے اس بابرکت موقع کو اور بھی یادگار بنا دیا۔
خصوصی بات یہ رہی کہ شہر کے بیشتر لوگوں نے اپنی تقریباً ستر برس کی زندگی میں پہلی بار نئی عیدگاہ میں عیدالفطر کی نماز ادا کی۔ اس تاریخی لمحے کو دیکھ کر کئی بزرگوں کی آنکھوں میں خوشی اور جذبات کی جھلک نمایاں تھی۔ انہوں نے اسے اپنی زندگی کا ایک یادگار اور باعثِ سعادت لمحہ قرار دیا۔
نئی عیدگاہ میں نماز سے قبل شہر کے مفتی، مولانا محمد حنیف قاسمی نے ابتدائی بیان فرمایا۔ عید کی نماز کا نظم و نسق شہر کے علما، مفتیانِ کرام اور معززینِ ملت کی نگرانی میں انجام پایا۔ نمازِ عید مولانا برکت اللہ خان نے پڑھائی جبکہ خطبۂ عید حافظ رضوان نے پیش کیا۔ اس کے بعد مولانا ریاض الدین نے ملک و ملت کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
اس تاریخی موقع پر تقریباً چھ سے سات ہزار فرزندانِ اسلام نے ایک ساتھ نماز ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے امن، سلامتی اور ترقی کی دعائیں مانگیں۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر عبادت کرنے والوں کا یہ دلنشین منظر اس حقیقت کی روشن دلیل تھا کہ اسلام انسانیت، مساوات اور اخوت کا پیغام دیتا ہے۔ وہاں نہ کوئی امیر تھا نہ غریب، نہ چھوٹا نہ بڑا، سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر اپنے پروردگار کے حضور سجدہ ریز تھے۔
نماز کے بعد حاضرین نے ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر عید کی مبارکباد پیش کی اور خوشیوں کا تبادلہ کیا۔ اس دوران عیدگاہ کے احاطے میں محبت، اپنائیت اور بھائی چارے کا نہایت دلکش ماحول دیکھنے میں آیا۔
تقریب کے دوران بالاپور کے تھانہ انچارج اور ان کے رفیقِ کار روی راوت سمیت پولیس انتظامیہ کی پوری ٹیم بھی موقع پر موجود رہی۔ ان کی موجودگی اور تعاون سے پورا اجتماع نہایت پُرامن اور منظم انداز میں اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر شہر کے علما اور سماجی کارکنان نے پولیس انتظامیہ کا تعاون اور بہترین انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔
بالاپور میں تعمیر ہونے والی یہ نئی عیدگاہ اب صرف نماز کی ادائیگی کی جگہ نہیں رہی بلکہ یہ باہمی ہم آہنگی اور سماجی اتحاد کی ایک مضبوط علامت بن چکی ہے۔ اس کی تعمیر اور انتظام میں مقامی باشندوں کی فعال شرکت اس بات کی روشن دلیل ہے کہ جب معاشرہ کسی نیک مقصد کے لیے متحد ہو جائے تو بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
بالاپور کی یہ نئی عیدگاہ اب صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک پیغام بن چکی ہے – ایسا پیغام جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اتحاد میں طاقت اور بھائی چارے میں برکت پوشیدہ ہے۔



