مہاراشٹر

ممبئی: ایشیا کے سب سے بڑے مذبح میں عیدالاضحیٰ کی تیاریاں مکمل، جدید کاری منصوبہ بھی جلد شروع ہوگا؛ دیڑھ لاکھ بکرے اور گیارہ ہزار بھینسوں کی قربانی متوقع، انتظامات میں بہتری کا دعویٰ، جنرل منیجر کلیم الدین پاشا پٹھان نے تفصیلات پیش کیں

ممبئی: 26 مئی(یواین آئی )عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی ممبئی کے مشہور دیونار سلاٹر ہاؤس اور مویشی منڈی میں سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ ایشیا کے سب سے بڑے مذبح خانوں میں شمار ہونے والے اس تاریخی مرکز میں امسال قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت، رہائش، صفائی، سیکورٹی اور ذبیحہ کے وسیع انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ سلاٹر ہاؤس انتظامیہ کے مطابق اس مرتبہ عیدالاضحیٰ کے دوران تقریباً دیڑھ لاکھ بکرے اور گیارہ ہزار بھینسوں کی قربانی متوقع ہے۔ بکرے شہر کے مختلف علاقوں میں بھی ذبح کیے جائیں گے، جبکہ بھینسوں کی قربانی دیونار سلاٹر ہاؤس کے اندر ہی انجام دی جائے گی۔
دیونار سلاٹر ہاؤس کے جنرل منیجر کلیم الدین پاشا پٹھان نے میڈیا کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے اُن خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا جارہا تھا کہ اس سال قربانی کے جانوروں کی شدید قلت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ امسال بکروں کی تعداد میں معمولی کمی ضرور محسوس کی جارہی ہے، تاہم صورتحال تشویشناک نہیں ہے۔ ان کے مطابق تقریباً دس سے پندرہ ہزار بکروں کی کمی ہے، جسے آئندہ چند دنوں میں پورا کرلیا جائے گا کیونکہ مختلف ریاستوں سے مزید جانور مسلسل ممبئی پہنچ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں قربانی کے جانوروں کی نقل و حمل کے دوران بعض مقامات پر پیش آنے والی رکاوٹوں اور تاجروں کو درپیش مشکلات کے سبب سیاسی اور سماجی حلقے بھی متحرک ہوئے ہیں۔ کئی سیاسی قائدین اور سماجی نمائندے حکومت اور اعلیٰ حکام سے رابطہ کرکے تاجروں اور بیوپاریوں کے مسائل اجاگر کررہے ہیں تاکہ قربانی کے جانوروں کی آمد و رفت میں غیر ضروری رکاوٹیں دور ہوسکیں اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہریوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کلیم الدین پاشا پٹھان نے اپنے دورۂ منڈی کے دوران جاری انتظامات پر روشنی ڈالتے ہوئے اعتراف کیا کہ بعض تاجروں اور بیوپاریوں کی جانب سے شامیانوں، پانی، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات کے تعلق سے کچھ شکایات سامنے آئی ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اس بار انتظامات میں واضح بہتری لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ منڈی میں جانوروں کے لیے علیحدہ باڑوں، پانی کی فراہمی، طبی معائنہ، روشنی، صفائی ستھرائی اور سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس اور میونسپل عملہ مسلسل نگرانی کررہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دیونار سلاٹر ہاؤس گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصے سے ممبئی میونسپل کارپوریشن کی نگرانی میں کام کررہا ہے اور ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر لاکھوں افراد اس منڈی کا رخ کرتے ہیں۔ ملک کی مختلف ریاستوں خصوصاً اترپردیش، راجستھان، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، کرناٹک اور تلنگانہ سے ہزاروں تاجر اور بیوپاری یہاں پہنچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیونار کی مویشی منڈی نہ صرف ممبئی بلکہ پورے ملک میں قربانی کے جانوروں کی سب سے بڑی اور تاریخی منڈیوں میں شمار کی جاتی ہے۔
کلیم الدین پاشا پٹھان نے اس موقع پر دیونار سلاٹر ہاؤس کی مجوزہ جدید کاری کے منصوبے پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ نصف صدی سے زائد پرانے اس مذبح خانے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑے منصوبے پر کام جاری ہے، جس کے تحت صفائی، نکاسی آب، ویسٹ مینجمنٹ، کولڈ اسٹوریج، جانوروں کی نگہداشت، جدید ذبیحہ نظام اور عوامی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق اس منصوبے پر جلد عملی کام شروع ہونے کی امید ہے اور آئندہ دو سے تین برسوں میں اسے مکمل کرلیا جائے گا۔ اس جدید کاری کے بعد دیونار سلاٹر ہاؤس نہ صرف ایشیا کے سب سے بڑے بلکہ جدید سہولیات سے آراستہ مثالی مذبح خانوں میں شامل ہوجائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی کوشش ہے کہ مذہبی جذبات اور شہری سہولیات دونوں کا مکمل خیال رکھا جائے، تاکہ عیدالاضحیٰ کے دوران قربانی کا عمل خوش اسلوبی، صفائی اور نظم و ضبط کے ساتھ انجام پائے۔ اس مقصد کے لیے مختلف محکموں کے افسران، طبی ٹیموں، صفائی عملے اور سیکورٹی اہلکاروں کو خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
کلیم الدین پاشا پٹھان کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے منڈی سے وابستہ تاجروں اور سماجی حلقوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ ملازمت میں دیونار سلاٹر ہاؤس کے انتظامی نظام کو بہتر بنانے، تاجروں کے مسائل حل کرنے اور عوامی سہولیات میں اضافہ کرنے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ وہ طویل عرصے سے اس ادارے سے وابستہ ہیں اور اپنی انتظامی صلاحیت، نرم گفتاری اور زمینی مسائل سے واقفیت کے باعث تاجروں، بیوپاریوں اور عملے کے درمیان یکساں طور پر مقبول سمجھے جاتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ جیسے حساس اور بڑے موقع پر انتظامات کو مؤثر انداز میں سنبھالنے میں بھی ان کی خدمات کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!