مہاراشٹر: مدت پوری کرنے والی گرام پنچایتوں میں موجودہ سرپنچ ہی سنبھالیں گے انتظامی ذمہ داری؛ ریاستی حکومت کا بڑا فیصلہ

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :ریاست میں مدت پوری کرنے والی گرام پنچایتوں (Maharashtra Gram Panchayat) کے سلسلے میں ریاستی حکومت نے ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کی تقرری کا معاملہ حل کر دیا ہے۔ اب جن گرام پنچایتوں کی مدت 28 فروری تک ختم ہو رہی ہے، وہاں موجودہ سرپنچ کو ہی ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے گا۔ اس سے دیہی سطح پر انتظامیہ میں تسلسل برقرار رہے گا اور اچانک تبدیلی سے پیدا ہونے والا خلا ٹل جائے گا۔ اس سے قبل جنوری میں جاری کردہ سرکلر کے مطابق 2026 میں مدت مکمل کرنے والی گرام پنچایتوں پر ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم ریاست میں گرام پنچایتوں کی بڑی تعداد اور توسیعی افسران (Extension Officers) کی محدود دستیابی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کو عملی دشواریوں کا سامنا ہو سکتا تھا۔ اسی پس منظر میں حکومت نے ترمیم شدہ فیصلہ لیا ہے۔
نئے فیصلے کے مطابق گرام پنچایت کی مدت ختم ہونے کے دن تک جو سرپنچ عہدے پر ہوں گے، انہیں ہی ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے گا۔ ان کی معاونت کے لیے موجودہ نائب سرپنچ اور گرام پنچایت اراکین پر مشتمل ایک انتظامی کمیٹی قائم کی جائے گی۔ اس اقدام سے مقامی سطح پر فیصلہ سازی کا عمل ہموار رہے گا اور نئی شخصیات کو نظام سمجھنے میں لگنے والا وقت بھی بچے گا۔
ایڈمنسٹریٹر اور انتظامی کمیٹی کی مدت تقرری کی تاریخ سے چھ ماہ یا متعلقہ گرام پنچایت کے انتخابات مکمل ہونے تک، جو بھی پہلے ہو، برقرار رہے گی۔ یہ ایک عارضی انتظام ہوگا اورانتخابات کی تکمیل کے بعد منتخب نمائندے باقاعدہ طور پرذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق یہ فیصلہ فی الحال اُن گرام پنچایتوں پر لاگو ہوگا جن کی مدت 28 فروری تک ختم ہو رہی ہے۔ اس عرصے میں ایڈمنسٹریٹر اور انتظامی کمیٹی کی تقرری کے اختیارات متعلقہ ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے پاس ہوں گے۔
ریاست میں بڑی تعداد میں گرام پنچایتوں کی مدت ختم ہونے کے باعث ہر جگہ بیرونی ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنا عملی طور پر ممکن نہیں تھا۔ پنچایت سمیتیوں میں توسیعی افسران کی محدود تعداد بھی ایک بڑی رکاوٹ تھی۔ انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے مقامی سطح پر موجودہ سرپنچ اور ان کی ٹیم کو عارضی طور پر انتظامی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ انتظامیہ میں تسلسل، شفافیت اور رفتار برقرار رکھی جا سکے۔



