مہاراشٹر

چندرپورکا بدلہ بھیونڈی میں! بی جے پی کو بڑا جھٹکا، بی جے کے پی باغی و بھیونڈی سیکولرفرنٹ کے نارائن چودھری میئر منتخب؛کانگریس کے مومن طارق عبدالباری ڈپٹی میئرمنتخب

بھیونڈی: (کاوش جمیل نیوز) :بھیونڈی-نظام پورمیونسپل کارپوریشن کے میئراورڈپٹی میئر کے انتخاب میں آئے ڈرامائی موڑ کے باعث پورے ریاست کی نظریں اس شہر پر جمی رہیں۔ جمعہ کو منعقدہ میئر کے انتخاب میں 48 ووٹ حاصل کر کے بھیونڈی سیکولر فرنٹ کے امیدوار اور ’بی جے پی باغی‘ نارائن چودھری کامیاب قرار پائے۔
کونارک وکاس اگھاڑی کے ولاس پاٹل کو 25 ووٹ ملے، جبکہ بی جے پی کی امیدوارسنیہا پاٹل کو صرف 16 ووٹوں پراکتفا کرنا پڑا۔ خاص بات یہ رہی کہ شیو سینا کے کارپوریٹروں نے بھی کونارک وکاس اگھاڑی کے حق میں ووٹنگ کی۔ میئر کے عہدے کے لیے ہاتھ اٹھا کر ووٹنگ کا عمل انجام دیا گیا۔ اس کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ چرچا شروع ہو گئی کہ چندرپور میں ہوئی شکست کا بدلہ کانگریس نے بھیونڈی میں لے لیا۔
بھیونڈی میونسپل الیکشن میں مہایوتی میں دراڑ پڑنے کے بعد شیوسینا اور بی جے پی دونوں جماعتوں نے میئراورڈپٹی میئر کے لیے درخواستیں داخل کی تھیں۔ اسی دوران بی جے پی کے مضبوط دعوے دار مانے جانے والے نارائن چودھری کوٹکٹ نہ ملنے پرانہوں نے بھیونڈی سیکولر فرنٹ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، جس سے سیاسی ہلچل مچ گئی۔ انہیں پارٹی کے چھ کارپوریٹروں کی حمایت حاصل تھی، جس کے باعث بی جے پی میں پھوٹ کی بحث چھڑ گئی تھی۔ دوسری جانب بھیونڈی سیکولر فرنٹ سے کانگریس کے مومن طارق عبدالباری نے میئراورڈپٹی میئر دونوں عہدوں کے لیے فارم داخل کررکھا تھا۔
خصوصی اجلاس کے آغاز میں ہی شیو سینا کے بالارام چودھری، سچیتا مہاترے سمیت چھ امیدواروں نے اپنے نام واپس لے لیے، جس کے بعد مقابلہ تین امیدواروں کے درمیان رہ گیا۔ ان میں بی جے پی کی سنیہا پاٹل، بھیونڈی سیکولر فرنٹ کے نارائن چودھری اور کونارک وکاس اگھاڑی کے ولاس پاٹل شامل تھے۔
ووٹنگ کے دوران نارائن چودھری کو کل 48 ووٹ حاصل ہوئے۔ انہیں بی جے پی کے 6، کانگریس کے 30 اور این سی پی (شرد پوار گروپ) کے 12 کارپوریٹروں کی حمایت ملی۔ بی جے پی کی سنیہا پاٹل کو 16 ووٹ ملے، جبکہ ولاس پاٹل کے حق میں شیوسینا کے 12 اور سماج وادی پارٹی کے 6 کارپوریٹروں نے ووٹ دیا۔
میئر کے انتخاب سے عین قبل سابق میئراوراس بار بھی امیدوارولاس پاٹل کو گزشتہ سال کے ایک دھوکہ دہی کے مقدمے میں تھانے اکنامک آفنس وِنگ نے گرفتار کیا تھا، جس سے سیاسی ماحول میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ امکان تھا کہ پاٹل ’کنگ میکر‘ ثابت ہوں گے اور فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ بالآخر پولیس بندوبست میں انہیں ووٹنگ کے لیے میونسپل کارپوریشن لایا گیا۔
اس انتخابی نتیجے نے بھیونڈی کی سیاست میں نئی صف بندی کے آثار پیدا کر دیے ہیں اور ریاستی سطح پراس کے اثرات پر بحث جاری ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!