بھیگون واقعہ: سچ کیا ہے؟ تحقیقات پر سب کی نظریں؛ بیٹی کی واپسی نہ ہوئی تو ماں کی خودکشی کی دھمکی؛ لڑکی کے حلف نامے کے بعد معاملہ پیچیدہ

پونہ: (کاوش جمیل نیوز) :بھیگون میں پیش آئے مبینہ اغوا کے معاملے نے اب نہایت جذباتی اور چونکا دینے والا رخ اختیار کر لیا ہے۔ متعلقہ لڑکی کے اہلِ خانہ میڈیا کے سامنے آ کر سخت انتباہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ، “گزشتہ بارہ برسوں سے ہماری بیٹی ذہنی دباؤ میں تھی۔ اس کے والد نہیں ہیں اور ایک چھوٹا بھائی ہے۔ ایسی حالت میں ہم نے بڑی محنت اور قربانیوں سے اسے پالا پوسا، لیکن اب وہ ہماری طرف دیکھتی بھی نہیں۔ اگر ہماری بیٹی ہمیں واپس نہ ملی تو ہم یہیں خودکشی کر لیں گے۔”
اہلِ خانہ کے اس بیان کے بعد علاقے میں کھلبلی مچ گئی ہے اور اس معاملے نے سماجی و قانونی سطح پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ لڑکی کی والدہ نے روتے ہوئے کہا، “ہم نے ساری زندگی اس کے لیے جدوجہد کی۔ والد کے انتقال کے بعد اس پر کوئی بری نظر نہ پڑے، اس کے لیے ہم مسلسل کوشش کرتے رہے۔ لیکن ہمیں شبہ ہے کہ کچھ افراد کی جانب سے طویل عرصے سے اس پر ذہنی دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔” اس سے قبل بھیگون کی متعلقہ لڑکی کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی، جس میں اس نے اپنی مرضی سے متعلقہ نوجوان کے ساتھ جانے اور کسی قسم کی زبردستی نہ ہونے کی بات کہی تھی۔ آج اسی لڑکی نے ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا ہے، جس میں اس نے کہا ہے کہ اس کا اغوا نہیں ہوا اور اس کی والدہ کی جانب سے پولیس میں درج کرائی گئی شکایت غلط ہے۔
ویڈیو اور حلف نامے کے بعد معاملہ نیا رخ اختیار کر چکا ہے، تاہم اہلِ خانہ نے ان بیانات پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے لڑکی پر دباؤ ڈال کر ایسے بیانات دلوائے گئے ہوں۔ فی الحال پولیس کی جانب سے پورے معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ لڑکی کی کونسلنگ کے ذریعے اس کا مؤقف جاننے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ اہلِ خانہ کی جانب سے خودکشی کی دھمکی کے بعد انتظامیہ بھی چوکس ہو گئی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے علاقے میں پولیس بندوبست بڑھا دیا گیا ہے۔
ادھر اس معاملے پر اب پورے ریاست کی نظر ہے اور آئندہ تحقیقات میں حقیقت کیا سامنے آتی ہے، اس کا سب کو انتظار ہے۔



