بالاپور: خطابِ جمعہ میں جھوٹی خبروں اور افواہوں سے بچنے کی تلقین؛ مولانا اسماعیل اشاعتی نے سنی سنائی باتوں کو پھیلانے کو بڑا گناہ قرار دیا

بالاپور: (ذاکر احمد) :جمعہ کے موقع پر مسجد میں دیے گئے خطاب میں معروف عالمِ دین مولانا اسماعیل اشاعتی نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی جھوٹی خبروں اور افواہوں کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے بغیر تحقیق کے خبریں پھیلانا ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے، جس سے معاشرے میں بداعتمادی، انتشار اور فتنہ پیدا ہوتا ہے۔
مولانا نے اپنے خطاب میں قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کیا کہ اسلام میں جھوٹ اور افواہ سازی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنی سنائی باتوں کو بغیر تحقیق کے آگے پہنچانا نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ شریعت کی نظر میں بھی قابلِ مذمت عمل ہے۔ اس عمل کی وجہ سے کئی مرتبہ بے گناہ افراد کی عزت و آبرو متاثر ہوتی ہے اور معاشرے میں غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔
انہوں نے ایک حدیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کرتا پھرے۔” مولانا اشاعتی نے کہا کہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ بغیر تحقیق کے خبر آگے پہنچانا بھی جھوٹ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
انہوں نے خاص طور پر سوشل میڈیا استعمال کرنے والے افراد کو نصیحت کی کہ وہ کسی بھی خبر، تصویر یا ویڈیو کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی حقیقت کی تحقیق ضرور کریں۔ اگر خبر کی سچائی معلوم نہ ہو تو اسے آگے بڑھانا درست نہیں، کیونکہ ایک غلط خبر پورے معاشرے میں انتشار اور نفرت کو جنم دے سکتی ہے۔
خطاب کے اختتام پر مولانا اسماعیل اشاعتی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ معلومات کو آگے بڑھائیں اور افواہوں سے مکمل طور پر اجتناب کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مہذب اور پرامن معاشرے کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد سچائی اور دیانت داری کو اپنائے اور جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔




