بڑی خبر: دہلی پولیس کی بڑی کارروائی: یوٹیوبرایکس مسلم سلیم واستک گرفتار، خفیہ شناخت بے نقاب؛ 31 سال پرانا راز فاش؛ کیا ہے معاملہ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

دہلی: (کاوش جمیل نیوز) :دہلی سے ایک چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے جہاں سوشل میڈیا پر ایکس مسلم ایکٹوسٹ کے طور پر مشہور سلیم واستک کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ سلیم واستک دراصل 31 سال پرانے ایک سنگین قتل کیس کا مفرور ملزم ہے، جو طویل عرصے سے اپنی شناخت چھپا کر زندگی گزار رہا تھا۔
سلیم واستک گزشتہ کئی برسوں سے یوٹیوب پر ایک بے باک مقرر اور سوشل ایکٹوسٹ کے طور پر سرگرم تھا اور اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہتا تھا۔ چند ماہ قبل اس پر جان لیوا حملہ بھی ہوا تھا، جس کے بعد وہ خود کو ایک متاثرہ شخص کے طور پر پیش کر رہا تھا۔
یہ معاملہ 1995 کا ہے جب 13 سالہ طالب علم سندیپ بنسل اسکول گیا لیکن واپس گھر نہیں لوٹا۔ اگلے دن اس کے اہلِ خانہ کو 30 ہزار روپے کی تاوان کی کال موصول ہوئی۔ دھمکی دی گئی کہ اگر پولیس کو اطلاع دی گئی تو بچے کو قتل کر دیا جائے گا۔ کچھ ہی وقت بعد سندیپ کی لاش مصطفیٰ آباد کے ایک نالے سے برآمد ہوئی۔
تحقیقات کے دوران شک کی سوئی اسکول میں مارشل آرٹس سکھانے والے سلیم خان پر گئی، جس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر پیسوں کے لالچ میں اس معصوم بچے کو قتل کیا تھا۔ 1997 میں عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنائی۔
سال 2000 میں دہلی ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت ملنے کے بعد سلیم فرار ہو گیا اور خود کو قانونی طور پر مردہ ظاہر کر دیا۔ اس کے بعد وہ ہریانہ اور اتر پردیش میں اپنی شناخت بدل کر رہتا رہا اور آخرکار غازی آباد کے لوَنی علاقے میں “سلیم واستک” کے نام سے نئی زندگی شروع کر دی۔
یوٹیوب کے ذریعے اس نے خود کو ایک سوشل ایکٹوسٹ کے طور پر پیش کیا اور کافی شہرت حاصل کی۔ یہاں تک کہ اس کی کہانی سے متاثر ہو کر ایک بالی ووڈ پروڈیوسر نے اس کی بایوپک بنانے کے لیے اسے 15 لاکھ روپے ایڈوانس بھی دیے تھے۔
اس کیس میں نیا موڑ تب آیا جب دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے انسپکٹر رابن تیاگی کی ٹیم کو خفیہ اطلاع ملی کہ یہ مشہور ایکٹوسٹ دراصل ایک پرانا مفرور مجرم ہے۔ پولیس نے پرانے ریکارڈ، فنگر پرنٹس اور تصاویر کا موازنہ کیا، جس سے حقیقت سامنے آ گئی۔ اس کے بعد لوَنی میں چھاپہ مار کر اسے گرفتار کر لیا گیا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ فروری 2026 میں سلیم واستک پر لوَنی میں چاقو سے حملہ ہوا تھا، جس میں وہ خود کو متاثرہ ظاہر کر رہا تھا، جبکہ پولیس نے اس معاملے میں دو ملزمان کا انکاؤنٹر بھی کیا تھا۔ فی الحال سلیم واستک دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہے اور اس کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔




