کرناٹک حکومت کا بڑا قدم:16 سال سے کم عمربچوں کے سوشل میڈیا استعمال پرپابندی کی تجویز؛ آندھرا پردیش بھی تیار

بنگلور: (کاوش جمیل نیوز) :کرناٹک کے وزیرِاعلیٰ سدارامیا نے ریاست میں 16 سال سے کم عمربچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنا 17 واں بجٹ پیش کرتے ہوئے اس اہم فیصلے کا اعلان کیا۔
وزیرِاعلیٰ سدارامیا کا کہنا ہے کہ موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بچوں پر منفی اثرات کو روکنے کے لیے حکومت یہ قدم اٹھانے پر غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کم عمر بچوں میں زیادہ اسکرین ٹائم، تعلیم پر کم توجہ، رویے میں تبدیلی اور ذہنی صحت کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس موضوع پر سنجیدہ غور ضروری ہو گیا ہے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ اسمارٹ فون تک بغیر کسی حد کے رسائی کی وجہ سے بچوں میں سوشل میڈیا کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے باعث وہ نقصان دہ مواد کے رابطے میں آ رہے ہیں اور بعض معاملات میں اس کی لت بھی پیدا ہو رہی ہے۔
وزیرِاعلیٰ نے یہ مسئلہ سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں بھی اٹھایا اور اس فیصلے کے ممکنہ اثرات اور امکانات پر ان کی رائے حاصل کی۔
کانگریس کے رکنِ اسمبلی رضوان ارشد نے کہا کہ حکومت نے بجٹ تقریر میں واضح کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کا ارادہ ہے۔ ان کے مطابق یہ معاشرے کا نہایت اہم مسئلہ ہے اور تقریباً ہر خاندان اس چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔
اگر یہ فیصلہ نافذ کیا جاتا ہے تو کرناٹک ملک کی پہلی ریاست بن جائے گی جہاں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ادھر آندھرا پردیش حکومت نے بھی ڈیجیٹل سکیورٹی کے تحت بڑا قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیرِاعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے اسمبلی میں بتایا کہ آنے والے 90 دنوں میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی جائے گی، اور حکومت اس عمر کی حد کو بڑھا کر 16 سال تک کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
کرناٹک حکومت نے اس سال ریاست کا بجٹ 4 لاکھ 48 ہزار 4 کروڑ روپے رکھا ہے، جس میں ٹیکنالوجی کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور ماحولیاتی استحکام پر خاص توجہ دی گئی ہے۔



